fbpx

اسٹیٹ بینک نے زر مبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کی تردید کردی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر ختم ہونے کی تردید کردی ہے۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوگئے یا انہیں خرچ نہیں کیا جاسکتا۔

ایس بی پی ترجمان کے مطابق 8.9 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر مکمل طور پر قابل استعمال ہیں جو سونے کے ذخائر کے علاوہ ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدی ادائیگیاں روکنے اور بینکوں کے پاس زرمبادلہ نہ ہونے کی اطلاعات بے بنیاد اور غلط ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اسٹیٹ بینک نے درآمدی ادائیگیاں نہیں روکیں کمرشل بینکوں کے پاس ادائیگیوں کے لیے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں جبکہ رواں ماہ کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے 4.7 ارب ڈالر کی درآمدی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے بڑے پیمانے پر رقوم نکالنے اور رقوم کی آمد سست ہونے کی افواہیں گردش کررہی تھیں۔جس کے بعد ایک ٹوئٹ میں اسٹیٹ بینک نے ان جعلی خبروں کی تردید کردی۔

 

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’اپریل میں اب تک رقوم کی آمد 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہی اور اس میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں ہوئی‘۔اسٹیٹ بینک نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں اب تک 4 ارب ڈالر کی رقوم جمع کرائی جاچکی ہیں۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اسٹیٹ بینک کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کے بینکنگ اور ادائیگی کے نظام سے جوڑنا ہے۔

آر ڈی اے کا بنیادی مقصد ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں ڈپازٹ پر بہت زیادہ منافع کی پیش کش کرکے بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو راغب کرنا ہے۔آر ڈی اے تارکین وطن پاکستانیوں (این آر پی) کے لیے شروع کیا گیا تھا تاکہ وہ آن لائن ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے کسی برانچ کا دورہ کیے بغیر پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھول سکیں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیون کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی اپنی آمدنی پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی ان پر نقد رقم نکالنے اور بینک ٹرانسفر پر ٹیکس لگے گا۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک دونوں کو یقین ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی آمد نے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھا کر ملک کی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے، جس سے یہ اقدام تارکین وطن اور ملک دونوں کے لیے ایک جیت ہے۔