سائنس اور مذہب تحریر: عمر یوسف

سائنس اور مذہب

عمر یوسف

فلسفہ ہو یا منطق ، سائنس ہو یا دیگر عقلی علوم ان سے وابستہ اکثر لوگ خدا کے وجود کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔

اب کیا وجہ ہے کہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کو حقیر سی عقل کے تابع ہو کر جھٹلا دیا جاتا ہے ،؟۔

حالانکہ فلسفہ و منظق و سائنس کی چوٹی پر پہنچ کر لوگ یہ حقیقت ماننے پر مجبور ہوئے کہ اس سے آگے خدا ہے ۔۔۔

جنہوں نے انتہاء دیکھی انہوں نے وجود باری تعالی کا اعتراف کیا ۔۔۔۔

یہاں پر میں انسانی فطرت کے پہلو کو اجاگر کروں تو انکار خدا کی ایک پیچیدہ وجہ سمجھ میں آجاتی ہے ۔۔۔

دماغ جس چیز پر مسلسل کام کرتا ہے وہ اسی کے تحت سوچنا اور عمل کرنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔

اب سائنس و فلسفہ یا دیگر علوم ٹھوس عقلی ، مشاہداتی اور تجرباتی علوم ہیں ۔۔۔۔

جو بندہ زندگی کا ایک عرصہ ایسی حالت میں گزارے کہ جس میں سائنسی تجربات کرکے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا وجود بھی اسی صورت مانا جائے گا جب اس کا مشاہدہ کیا جائے گا ۔۔۔۔

سائنس کو ہی دیکھ لیں کسی بھی چیز کا دعوی وہ۔اسی صورت مانے گی جب اس کا مشاہدہ کرے گی ۔۔۔بصورت دیگر آپ منوا کے دکھائیں !!!

مسلسل عقل کے تابع ہونا انسان سے ایمان کی سمجھ چھین لیتا ہے وہ ان دیکھی ، ناقابل مشاہدہ چیزوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔۔۔

یوں مسلسل عقلیات کی پیروی خدا کے وجود پر ایمان لانے کے راستے میں حائل دیوارہے

خفیف سی مثال اس کی تائید کرے گی کہ آپ مسلسل روشنی میں کام کرنے کے بعد ایک دم اندھیرے میں آئیں گے تو چیزوں کا مشاہدہ کرنا کچھ وقت کے لیے ممکن نہ ہوگا ۔۔۔۔

اسی طرح مسلسل عقلیات کے تابع ہونے والے کو ایمانیات کی سمجھ مشکل سے آتی ہے ۔۔۔
اس مسلمہ حقیقت کے بعد مسلمانوں کے کرنے کے کام دو ہیں ایک ذاتی لحاظ سے ایک اجتماعی لحاظ سے ۔۔

ذاتی لحاظ سے سائنس سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا تعلق مذہب سے مضبوطی سے بنائے رکھے قرآن و حدیث کا مطالعہ ہی ایمان و سلامتی کا واحد ذریعہ ہے ۔۔۔
اور اجتماعی لحاظ سے جو لوگ سائنس پسندی کی وجہ سے دین بیزاری کا شکار ہیں ان سے درست رویہ اپنائے نہ کہ تعصب و انتہاء پسندی کا ۔۔۔
اور ان کی عقلیات سے استدلال کرتے ہوئے ایمانیات ثابت کرے جیسے کہ عصر حاضر کے ممتاز علماء اسی پیٹرن کو فالو کرتے ہیں اور ان کی تصانیف و خطبات سے دیکھا جاسکتا ہے ۔۔۔

سائنس کے حوالے سے مذہبی لوگوں کو نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جہاں سائنس کی طرف سے مذہب خلاف عمل در آمد ہوتا ہے وہیں پر لوگ پوری کی پوری سائنس کو کفر کی فیکٹری مان لیتے ہیں ۔۔۔
سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جو چیز مذہب کے خلاف ہے صرف اسے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جانا چاہیے اور اسے ہی رد کرنا چاہیے نہ کہ پوری سائنس کو ہی ۔۔۔

کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی خلاف ورزی پر سائنس کو کفر عظیم سمجھنے کا ہی تاثر دیا جاتا ہے ۔۔۔

بات کا اختتام اسی پہ کرتے ہیں کے مذہب کے بغیر سائنس کی دنیا جہنم کا راستہ ہے کیونکہ عقلیات کی پیروی سے ایمان کی سلامتی ممکن نہیں ۔۔۔۔۔
اور سائنس کے حوالے سے مذہب میں درست نظریہ رائج ہونا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو چیز سائنسی مشاہدے میں نہیں وہ ان کے نزدیک ناقابل قبول ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس کا انکار سائنس کررہی ہے وہ واقعی موجود نہیں ۔۔۔۔۔
اور یہ بھی ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ اب سائنس کو کفر کی فیکٹری سمجھ لیا جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.