سکون کی سودا گری…!!! [تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔

=======🌻🌻🌻🌻=======
سکون کی سودا گری…!!!
[تحریر✍🏻:جویریہ بتول]۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم نمازوں میں لمبے قیام بھی کر رہے ہوتے ہیں…
اذکار و تسبیحات میں مگن رہتے ہیں…
تلاوت ہمارا معمول ہوتی ہے کہ مگر ہم ذہنی طور پر اُلجھنوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں…
بے سکونی ہمارا گھیراؤ کیئے رہتی ہے…
مال و زر کی فراوانی بھی ہماری بے چینی کے کرب کو کم نہیں کر سکتی…
تو اس کی بھی ایک وجہ ہے…
کیونکہ اس وقت ہم اللّٰہ تعالٰی کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں لیکن اس کی مخلوق سے منہ موڑ کر،
رشتوں کے دل توڑ کر…
دوری اختیار کر کے…
اُن کے حقوق کی ادائیگی سے غفلت کے مرتکب ہو کر اپنی زندگی میں خوشگواری کو ماند کر رہے ہوتے ہیں…!!!
صلہ رحمی کرنے سے کٹ چکے ہوتے ہیں…
شکوک و شبہات کو فروغ دے کر الزامات کے طوماروں میں گھرے ہوئے ہوتے ہیں…
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ ایک بہو اپنی ساس اور نندوں،اور سسرالی رشتوں کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا رہتی ہے۔
اگر اس کا شوہر اپنی ماں،بہن،یا بھائیوں کی کوئی مدد کر دیتا ہے تو یہ بات اکثر خواتین کے لیئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔
پھر جب یہی صورت حال خود اپنی بھابھیوں کی صورت میں دیکھنا پڑے تو بد قسمتی اور حق تلفی کے رونے روئے جاتے ہیں…
ذرا سی رنجش کو طول دے کر،
ان عزیز رشتوں سے الرجک رہنا ہمارا معاشرتی رویہ بن چکا ہے…
بلکہ ایسا بھی دیکھا ہے کہ ایک گھر میں نندیں،بھابھیاں سالوں تک آپس میں قطع کلامی رکھتی ہیں…
یہی صورت حال اکثر ساس بہو کے رشتے میں بھی نظر آتی ہے…
تو یاد رکھیئے کہ سسرال اور میکے کا گھرانے انہی رشتوں کی پختگی یا کمزوری پر انحصار کرتے ہیں…!!!
سو اس کھچے کھچے ماحول میں گھر کے تقریباً سبھی افراد متاثر ہوتے ہیں اور پھر اس چیز کا اثر آگے بچوں پر بھی انتہائی منفی ہوتا ہے۔جہاں ہمیشہ کی تلخی مقدر ہو جاتی ہے۔
صلہ رحمی اور رشتہ داری کی اہمیت سمجھنے سے وہ بھی نابلد ہی رہتے ہیں سو مجبوریاں دوریاں،تنہاہیاں زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اسلام میں صلہ رحمی اور حقوق العباد کی ادائیگی پر احسن انداز میں زور اور تعلیم دی گئی ہے…
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بدلے میں صلہ رحمی کرنا صلہ رحمی نہیں ہے،بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو وہ تب بھی صلہ رحمی کرے…”
(صحیح بخاری)۔
رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ناطہ رحمٰن سے جڑا ہوا ہے اور اللّٰہ نے فرمایا،جو کوئی تُجھ کو جوڑے میں اُسے جوڑوں گا اور جو تُجھے قطع کرے میں بھی اُسے قطع کروں گا…”
(صحیح بخاری)۔
ان احادیث کی روشنی میں ہم اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے رستوں کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔
حکیم بن حزام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللّٰہ !!!
میں نے جاہلیت کے زمانہ میں جو کام عبادت کے طور پر کیئے ہیں،جیسے ناطہ جوڑنا،غلام آزاد کرنا اور صدقہ تو ان کا کُچھ ثواب مجھے ملے گا ؟
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تو اسلام لایا تو تیری پہلی سب نیکیاں قائم رہیں…”
(صحیح بخاری)۔
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللّٰہ مجھے ایسا عمل بتلایئے کہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللّٰہ کی عبادت کر،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر،اور نماز ادا کر،اور زکوٰۃ دے اور ناطہ والوں سے سلوک کر چل اب نکیل چھوڑ دے”
(صحیح بخاری)۔
حقوق اللّٰہ کی لذت میں اضافہ اور چاشنی کا ادراک حقوق العباد کی ادائیگی سے متصل ہے۔
اسلام کامل و اکمل دین ہے اور ہمیں ہر لحاظ سے مضبوط،اور کامیاب راہ دکھاتا ہے۔
مال و زر ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے اس کے خرچ کے انداز کو بھی اللّٰہ تعالٰی نے اپنی رضا سے جوڑ دیا ہے۔
اللّٰہ تعالٰی اس وقت تک اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔
جو کسی کا عیب ڈھانپے گا تو اللّٰہ اس کا عیب دنیا و آخرت میں ڈھانپے گا۔
اگر آپ مالدار ہیں تو اس مال میں قرابت والوں کا حق تلاش کیجیئے…
کسی کو غلہ دے کر…
کسی کو کپڑا پہنا کر…
کسی کے بچے کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کر کے اپنے خاندان کے انٹلیکچوئل میں اضافہ کیجیئے…
اپنے لیئے بہترین زادِ سفر اور صدقہ جاریہ کا سودا کیجیئے…
ماں باپ سے حُسنِ سلوک…
بہن بھائیوں رشتہ داروں سے صلہ رحمی…
چاہے وہ ذہنی طور پر آپ سے ہر گز متفق نہ ہوں،لیکن اپنے حصے کا فرض ادا کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے…
اپنے تمام اعمال کو صرف اور صرف اللّٰہ تعالٰی کی خوشنودی سے جوڑ کر سوچیئے تو یقیناً انسان دنیا والوں کے بدلہ سے بے غرض ہو جایا کرتا ہے…!!!
اس کے دل میں جس قدر صاف ستھرا عقیدہ توحید ہو گا اس کا سینہ اتنا ہی کشادہ ہو گا…
جب ہم اس نیت سے نیکی کرتے ہیں کہ لوگ ہمیں داد دیں…
ہماری توصیف کریں…
ریا کاری کا عنصر شامل ہو جاتا ہے تو پھر ہم نیکی کر کے بھی مطمئن نہیں ہو پاتے…
ہم لوگوں سے بدلہ کے اُمید وار رہتے ہیں…!!!
انہیں اپنے انڈر دیکھنا چاہتے ہیں…
انشراح صدر لغویات ترک کر دینے،معاصی سے بچنے میں ہے…
جب عمل عملِ صالح کے روپ میں ڈھل جائے تو دل کی وادی میں سکون کی گونجیں بہت دور تک سنائی دیتی ہیں…
علمِ نافع بھی شرح صدر لاتا ہے جب آپ کو اپنے فرائض کا ادراک ہو جائے تو آپ انہیں مستعدی سے ادا کرنے کے لیئے بے تاب ہو جاتے ہیں…
اور پھر ادا کرنے کے بعد احسان نہیں بلکہ اپنے کندھوں کے قرض کی ادائیگی سمجھتے ہیں…
جس سے بھی صلہ رحمی کریں…
جس کے بھی حقوق اَدا کریں…
مقصد رضائے الٰہی و قربتِ الٰہی ہو…
کسی کے زخموں پر مرہم رکھنا ہو…
نمک چھڑکنا نہیں…!!!
فرض کی ادائیگی ہو،طعنوں کے طومار نہیں…
صدقہ،نیکی سے کشادہ ظرفی پیدا ہو،کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنا نہیں…!!!
اچھے اخلاق سے پیش آنا ہو…درشتی و دھتکار کا انداز نہیں…
مسکرا کر معذرت کر دینا ہو،اذیت کے کلمات نہیں…
اللّٰہ کی عنایات میں بخل نہیں،مخلوق کی بھلائی ہو…!!!
یہی صراطِ مستقیم ہے،اور جب بندہ اس راہ پر چلتا ہے تو رب کے وعدوں پر بھروسہ،اس کے فیصلوں پر راضی اور اس راہ کے حق ادا کر کے خوشی محسوس کرتا ہے…!!!
اس کے سامنے اس کے رب کی وحدانیت،اس کے رسول کا اسوہ،اور نورٌمبین قرآن کی صورت ہدایت ہوتی ہے…!!!
تب وہ دنیا والوں سے بے غرض ہو کر بہت بلند سوچ سوچتا ہے…
پھر وہ کھجور کا ٹکڑا دے یا احد پہاڑ برابر سونا…اس کے پیشِ نظر بس رب کی عنایات کا حق ادا کرنا ہی ہوتا ہے…!!!
تب وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے جب غور و فکر کرتا ہے تو ایک گہرے سکون کی لہر اُسے اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے…!!!
چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور مخلص رویّے دل کو گہرا سکون دیتے ہیں…
بدگمانی،غیبت،اہانت،اور چغل خوری سکون کو ہمیشہ کے لیئے معدوم کر دیتے ہیں…!!!
ہمیں سکون چاہیئے ہے ناں ؟
تو یہاں بھی امن و سکون،ایمان و محبّت کا اظہار کیجیئے اور پھر جب وہاں رب کی رحمت ڈھانپ لے گی تو ابدی سکون ہی سکون مقدر ہو جائے گا…!!!(ان شآ ءَ اللّٰہ)۔
یہی مسافر کا سفر ہے…اور یہی کامیابی کا زاد راہ…!!!
اس کھیتی میں جو بویا جائے گا،اسی اصول اور معیار پر کاٹ لیا جائے گا…!!!
کہ سکون کی سودا گری محبتوں کے بھنور میں ہوتی ہے،
نفرتوں، تلخیوں ،اور احسان جتا جتا کر دوسروں کو چت کر دینے میں نہیں…!!!
اپنی ذات پر ترجیح دینے والے،
اور رب کی رضا کو اُمید رکھنے والے اس کے محبوب ہوتے ہیں…
اس کے بندوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے والوں کے لیئے وہ آسانیوں کے باب کھول دیتا ہے…
محبّت کرنے والوں اور اپنی ذات پر ترجیح دینے والوں کا تذکرہ رب ان الفاظ میں کر رہا ہے:
"اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود کتنے ہی حاجت مند کیوں نہ ہوں؟
جو بھی نفس کے بخل سے بچا لیا گیا وہی کامیاب ہیں…”
(الحشر:9)۔
===============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.