اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

برطانیہ میں واقع اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ملک بھر کی خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی اشیا مفت فراہم کرنے کا بل منظور کرلیا اور وہ "غربت” کے خلاف ایسا قدم اٹھانے والی دنیا کی پہلی قوم بن گئی ہے۔

باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے پارلیمنٹ نے 24 نومبر کو ’دی پیرڈ پراڈکٹس اسکاٹ لینڈ بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

پیرڈ پروڈکٹ (مفت فراہمی) اسکاٹ لینڈ بل متفقہ طور پر منظور ہوا ، اور اسکاٹ لینڈ کے پہلے وزیر نکولا اسٹارجن نے اسے "خواتین اور لڑکیوں کے لئے ایک اہم پالیسی” قرار دیا۔

اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی مذکورہ بل کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے منظور کرلیا گیا تھا، جس کے بعد اس پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوئی۔

مذکورہ بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں اس پر 4 مراحل میں بحث کی گئی اور آخری مرحلے کی بحث کا اختتام 24 نومبر کو بل کی منظوری کے ساتھ ہوا۔

بل منظور ہوجانے کے بعد اب اسکاٹ لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا جہاں تمام عمر کی خواتین کو مخصوص ایام کے دوران ضرورت میں آنے والی تمام چیزیں مفت فراہم کی جائیں گی۔

بحث کے دوران ، بل کے تجویز کنندہ ، سکاٹش لیبر کی رکن پارلیمنٹ مونیکا لینن ، نے کہا: "کسی کو بھی اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کا اگلا ٹیمپون ، پیڈ یا دوبارہ پریوست آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا ، "اسکاٹ لینڈ تاریخ میں غربت میں مبتلا ہونے والا آخری ملک نہیں ہوگا ، لیکن ہمارے پاس پہلی بار ہونے کا موقع ہے۔”

خواتین کے حیض میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی چیزوں کی مفت فراہمی کے لیے حکومت سرکاری دفاتر، عمارتوں اور اہم اسٹورز پر ان کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

تقریبا 55 لاکھ کی آبادی والا اسکاٹ لینڈ اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک بھی ہے جہاں اسکول و کالجز کی طالبات کو حیض کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیا مفت فراہم کر رہا ہے۔

2018 میں ، اسکاٹ لینڈ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مفت سینیٹری کی مصنوعات فراہم کیں۔

علاوہ ازیں اسکاٹ لینڈ میں نجی ریسٹورانٹس، ڈانس و نائٹ کلبز، بڑے شاپنگ مالز، اسپورٹس و فٹنیس کلبز سمیت کئی طرح کے ادارے اپنے دفاتر میں خواتین کی واش رومز میں حیض کے استعمال کی اشیا کی مفت فراہمی بھی کر رہے ہیں۔

حکومتی اندازوں کے مطابق خواتین کو اشیا کی مفت فراہمی کے بعد حکومت پر سالانہ تقریبا 3 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا 4 ارب روپے تک کے اخراجات آئیں گے۔

چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

نئے قانون کے مطابق خواتین ضرورت کے مطابق اپنے خصوصی ایام کے موقع پر اپنی من پسند چیز کو مفت حاصل کر سکیں گی اور خواتین کو ’پیڈز کے علاوہ ٹاول اور ٹیمپون‘ بھی مفت مل سکیں گے۔

ٹیمپون ایک خاص طرح کا آلہ ہے جسے خواتین ’پیڈز‘ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

اسکاٹ لینڈ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کے مطابق وہاں ہر خاتون حیض کی اشیا پر ماہانہ 13 پاؤنڈ یعنی پاکستانی تقریبا ڈھائی ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔

فلاحی تنظیموں کے مطابق بھاری اخراجات کے باعث اسکاٹ لینڈ کی کئی خواتین ایام خصوصی کے موقع پر استعمال ہونے والی اشیا نہیں خرید سکتیں، جس وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

برطانیہ میں سینیٹری پروڈکٹ پر 5٪ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، جو عہدے داروں نے یورپی یونین (EU) کے قوانین پر الزام عائد کیا ہے جس سے بعض مصنوعات پر ٹیکس کی شرح مقرر کی جاتی ہے۔

اب جب برطانیہ نے یورپی یونین چھوڑ دیا ہے ، برطانوی وزیر خزانہ رشی سنک نے کہا ہے کہ وہ جنوری 2021 میں "ٹیمپون ٹیکس” کو ختم کردیں گے۔

جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.