ورلڈ ہیڈر ایڈ

سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر

موسمی نفسیاتی بیماری سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر
جونہی موسم بدلتا ہے ہر انسان میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اس طرح موسمی اثرات نفسیاتی مریضوں میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں جسے سٙیڈ (SAD)یعنی سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈرseasonal effective disorder کہتے ہیں یعنی کہ موسم کے اثرات خاص طور پر یہ اثرات موسم بہار میں نظر آتے ہیں جونہی موسم کی گرمی کی شدت بڑھن ریزینے لگتی ہے سیٙڈ بھی اپنا موڈ بدل لیتا ہے اس پر گرمی کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں دباو ڈپریشن کی علامت ہے اس کو موڈ ڈس آرڈر بھی کہہ سکتے ہیں موسم کی۔ تبدیلی کی۔ وجہ سے جو اثرات انسان پر پڑتے ہیں زیادہ تر ستمبر اور اپریل میں۔ اپنے عروج پر ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد ان کا تعلق گرمی کے ساتھ ہوتا اس کی تاریخ بہت زیادہ پُرانی نہیں پہلی مرتبہ اس کانام 1948میں سنا گیا جب اس کا ایک مریض ملا۔ جو یو ایس میں ڈاکٹر ای رزینیکل نورمو کے پاس آیا جس کے برین پر موسمی اثرات کا۔اثر تھا اس کے بعد ساوتھ افریقہ اور نیو یارک میں کچھ مریض نظر آئے موجودہ صورت حال میں تین فیصد لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں جو فل عروج پر بیمار ہوتے ہیں دس سے بیس فیصد تک درمیانے درجے کےبیمار ہوتے ہیں

ڈائٹنگ کے دوران پروٹین اور فائبر کا استعمال انتہائی مفید


تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ مرض مردوں کی۔نسبت عورتوں میں۔زیادہ پایا جاتا ہے ہرمریضوں میں تین خواتین اور ایک مرد ہوتا ہے یہ زیادہ تر ٹین ایج کے بعد شروع ہوتا ہے اس کے عروج کا زمانہ اٹھارہ سے تیس سال ہےکچھ کیس میں بچے بھی شامل ہیں لیکن بہت کم یہ مرض بڑی عمر کے لوگوں میان۔شاذو نادر ہی پایا جاتا ہے سیڈ کے اثرات زیادہ تر شمالی علاقہ جات میں پائے جاتے ہیں یا جن علاقوں میں گرمی کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں درمیانے موسم کے علاقوں میں یہ کم پایا جاتا ہے دراصل یہ ڈپریشن اور سٹریس کی۔ایک قسم ہے موسم گرما میں جوں جوں شدت بڑھتی ہے اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے گرمی کی شدت سے عام نارمل آدمی بھی چڑ چڑا ہو جاتا ہے اور اس میں بد مزاجی آ جاتی ہے دن کے پچھلے پہریا دوپہر کے بعد جب سہ پہر ہونے لگتی ہے موڈ میں تبدیلی آنے لگتی ہے

ڈائٹنگ کا شوق اور بے وقت کی بھوک


علامات: اس مرض میں عام طور پر مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں
تھکاوٹ تناو دباو چڑچڑاپن تشویش جسم کا درد نیند میں کمی۔پیٹ میں خرابی کسی چیز پر توجہ مرکوز نہ کر سکنا بھوک کا کم لگنا وزن کا کم ہونا بے خوابی رونے کو دل کرنا اگر مرض طوالت اختیار کر لے تو انسان میں خود
کشی کا رحجان بڑھ جاتا ہے
یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں انسانی جسم پر سورج کی روشنی کا بہت کم یا بہت زیادہ ہونا انسان کے بس میں نہیں رہتا یہ نہ صرف نفسیاتی بلکہ جسمانی۔نظام میں بھی تبدیلی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے اور انسان کی دلچسپیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
احتیاطی تدابیر:
اس کے لیے نفسیاتی تدابیر اور حربے استعمال کیے جاتے ہیں
بی ہیوئیر تھراپی ضروری ہے جس سی موڈ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور انسان اپنی نیند پوری کرے تو نفسیاتی اثرات سے بچ جاتا ہے
بھر پور نیند لینا
ورزش کرنا ایسی ورزش جس سے تھکاوٹ پیدا نہ ہو وہ سود مند ثابت ہو سکتی ہے
روشنی کا مناسب انتظام کرنا ضروری ہے اگر فوٹو تھراپی کام نہ کرے تو دباو کم کرنے والی دوائیں استعمال کریں تاکہ ان علامات میں کمی آ سکے
اگر ممکن ہو کسی ایسے علاقے میں چلے جائیں جہاں موسم بہتر ہو وہاں جا کر انسان موڈ میں بہتر تبدیلی محسوس کرے گا
کسی میٹھی چیز کو کھانے سے وقتی طور پر ڈیپریشن کم کیا جا سکتا ہے شوگر کے مریض اس سے پر ہیز کریں وہ مصنوعی میٹھا استعمال کر سکتے ہیں

سردیوں میں جلد کی حفاظت کرنے کی آزمودہ ٹپس


اس مرض کو معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ اگر یہ طوالت اختیار کرلے تو انسان کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے بہت سے مریض تو اس میں اس حد تکبآگے نکل جاتے ہیں خود کشی کا پلان بنانا شروع کر دیتے ہیں اس میں ہر سال چھ فیصد سے پچیس فیصد تک ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں ان میں 1.5فیصد ٹھیک ہو جاتے ہیں باقی نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں
اگر کوئی بلڈ پریشر اور شوگر کا مریض ہے اسے اپنی روزمرہ کی دواوں کا استعمال۔ضروری ہے اگر پھر بھی فرق نہ پڑے تو اس کو سکون آور ادویات استعمال کروائیں تاکہ مریض وقتی طور پر سکون میں رہے
علاج: ویسے تو پرہیز علاج سے بہتر ہے جو انسان زیادہ۔حساس ہیں وہ زیادہ سردی یا زیادہ گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور کوشش کریں وہ اپنے باہر کے کام ایسے ٹائم میں انجام دیں جب وہ خود کو آسانی میں محسوس کریں یا وہ باہر کے کام میں کسی کی مدد لے لیں اس کا علاج لا ئیٹ ٹریٹمنٹ ہے روشنی کا مناسب انتظام کرنے سے اس میں کمی لائی جا سکتی ہے اس کے اثرات صبح و شام زیادہ اچھے نظر آتے ہیں یا عارضی طور پر ایسی جگہ چلا جائے جہاں روشنی کی مقدار مناسب ہو سورج کی روشنی کم ہو فوٹو تھراپی بھی مصنوعی طریقہ علاج ہے جس سے کمرے میں روشنی کا زیادہ انتظام کیا جاتا ہے

نزلہ زکام کا گھریلو طبی علاج اور غذائی پرہیز


عام طور پر گرم علاقوں میں لوگ کمروں کے اوپر سبز رنگ کا شیڈ لگواتے ہیں جس سے گرمی کم۔ہو جاتی ہے قدرتی طور پر اگر کمرے کی کھڑکی کے باہر درخت وغیرہ ہوں تو اسکا بہترین حل ہے اس انسان کے چڑچڑے پن میں کمی واقع ہو جاتی ہے انسومنیا کا علاج بھی یہی ہے روشنی کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ مریض کے سر درد اور تھکاوٹ میں کمی۔آ جائے ذہنی دباو کم کرنے والی ادویات کا ستعمال لیکن ان دواوں کے اپنے سائیڈ ایفیکٹس ہیں دوائیوں کے اپنے سائیڈ اثرات سے بچنے کے لیے ماحول میں تبدیلی لائیں اگر اس سے بہتری نہ آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور کسی اچھے سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹ کریں ایسے لوگوں کو زیادہ گرمی اور زیادہ سردی سے بچایا جائے تو اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے موڈ کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف حر ے اپنائے جا سکتے ہیں جس سے وقتی طور پر دھیان بٹ جانے کی وجہ سےمرض کی شدت میں کمی کر کے ایسے لوگوں کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جا سکتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.