سکیورٹی اہلکار اب عمران خان کی ملاقاتوں کے دوران ہونے والی گفتگونہیں سن سکیں گے

0
164
adyayla

اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت کیس، سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا

سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تمام احکامات کی پاسداری کی گئی ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران بانی پی ٹی آئی کی حفاظت کیلئے سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو ذرا دور رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، سکیورٹی اہلکار اب بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کے دوران ہونے والی گفت و شنید نہیں سن سکیں گے،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلاء سے مشاورت کے بعد چھ بیچ تشکیل دے دیئے گئے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کو کبھی بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے نہیں روکا جائے گا، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کو دستاویزات اور مطلوبہ اسٹیشنری جیل کے اندر لے جانے کی اجازت دی جائے گی،وکلاء کی جانب سے لائی گئی دستاویزات کو جیل حکام کی جانب سے کبھی قبضے میں نہیں لیا جاتا،وکلاء کی جانب سے لائی گئی دستاویزات کو سکیورٹی سکینر سے گزارا جاتا ہے، سکیورٹی اسکینر میں دستاویزات کو کاپی کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، یل حکام کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے وکلاء سے ہمیشہ عزت و تکریم کا رویہ اپنایا جاتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تمام احکامات پر من و عن عملدرآمد کیا جاتا ہے،

اسلام آباد ہائی کورٹ ،بانی پی ٹی آئی سے عدالتی حکم کے باوجود جیل میں ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سماعت کی،ایڈوکیٹ جنرل ایاز شوکت اور سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ عدالت میں پیش ہوئے، معاون وکیل نے کہا کہ سینئیر وکیل شیر افضل مروت دوسری عدالت ہیں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ انھیں کتنا وقت لگے گا ، معاون وکیل نے کہا کہ ابھی کچھ دیر بعد آجائیں گے ، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپکا بیان حلفی جمع ہوگیا ہے ،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ جی بیان حلفی جمع ہوگیا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ آپ آرڈر پڑھیں کچھ چیزیں لیگل ایڈوائزر کے لیے تھیں،آپ جو چیزیں بتا رہے ہیں وہ غیر متعلقہ ہیں، کچھ چیزیں جنرل قیدیوں کے لیے ہوتی ہیں ،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ آپ اپنا بیان حلفی پڑھیں ، آپ اپنے بیان حلفی کی کاپی درخواست گزار کو دے دیں ، وکیل درخواست گزار شیر افضل مروت کے عدالت آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا.

آپ آن لائن ملاقاتوں کی اجازت کیوں نہیں دیتے ؟عدالت
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ ہوئی، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ اڈیالہ جیل حکام نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وکلاء کے ساتھ ملاقاتوں میں پرائیویسی کا خیال رکھا جائے گا، ملاقاتوں کے حوالے سے ہمیں تحفظات ہیں،عدالت نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے ہفتے کے لیے کیلینڈر ترتیب دیا جائے اور اس کے مطابق ملاقاتیں کروائی جائیں، شیر افضل مروت کی جانب سے سپریٹینڈینٹ اڈیالہ کی جانب سے فوکل پرسن مقرر کرنے کی استدعا کی گئی،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سپریٹینڈینٹ اڈیالہ جیل کو وکلاء اور جیل حکام سے رابطے کے لیے فوکل پرسن تعینات کردیا ، سرکاری وکیل کی جانب سے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ہفتے میں 2 دن ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی،سرکاری وکیل کی جانب سے آئین کی مختلف دفعات اور مختلف فیصلوں کے حوالے دیے گئے، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ہفتے میں صرف 2 ملاقاتیں ہو سکیں؟آپ مجھے سپیرئیر کلاس پرزنر رول بتائیں،کیا دو دن کافی ہیں مروت صاحب ؟ آپ آن لائن ملاقاتوں کی اجازت کیوں نہیں دیتے ؟یہ کرمنل قوانین جب بنائے گئے تب لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کا وجود ہی نہیں تھا ، اب یہ سہولت میسر ہے تو آن لائن ملاقات کروائی جاسکتی ہے،

عمران خان خود لکھ کر دینگے کہ وہ کس کس سے ملاقات کرینگے،عدالت کا حکم
سپرینٹینڈیٹ جیل نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کل اڈیالہ جیل کی پچھلی طرف سے اسلحہ اور بارود برآمد ہوا، اسی وجہ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کردیں،شیر افضل مروت نے کہا کہ رمضان میں تو خان صاحب باہر آجائیں گے یہ درخواست غیر موثر کروانا چاہتے ہیں،شیر افضل مروت کی بات پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جسٹس سردار اعجاز خا ن نے حکم دیا کہ عمران خان خود لکھ کر دینگے کہ وہ کس کس سے ملاقات کرینگے،عمران خان کے دیئے گئے ناموں کے علاوہ کوئی سپریٹنڈنٹ کو درخواست نہیں دے سکے گا.

سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل آرڈر پاس کرے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری

جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

عمران نے کہا ووٹ چوروں کے ساتھ مفاہمت نہیں ہو سکتی،علیمہ خان

Leave a reply