یہ فرقہ بندیاں —بقلم فردوس جمال

کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دو بڑے عیسائی فرقے ہیں ان کے درمیان اس قدر اختلافات ہیں کہ یہ ایک دوسرے کا وجود تسلیم نہیں کرتے ہیں،1618ء سے 1648ء تک یہ وہ عرصہ تھا جب ہر فرقے نے دوسرے کو ختم کرنے کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں 8 ملین لوگ مارے گئے یعنی جنگ عظیم دوم سے بھی زیادہ،اس قدر انسانی المیہ کے بعد انہیں ایک بات سمجھ آئی کہ کسی فرقے اور فرد کو قتل کرکے اس کی فکر اور اس کے نظریے کو نہیں مارا جا سکتا ہے.

کسی فرقے کی فقہ،فکر اور مسلکی اپروچ سے اختلاف کرنا غلط نہیں ہے،صحت مند مکالمہ صحت مند سماج کی دلیل ہوتا ہے،ہاں مگر غلط یہ ہے کہ آپ مخالف کے خاتمے اور اس کی موت کے لئے تمنا کرے یا پھر عملی اقدام.
ہمارے ہاں غلط یہ ہوا کہ بات مکالمے سے بڑھ کر مناظروں تک جا پہنچی اور مناظروں سے آگے چل کر فرقوں کی بنیاد پر مسلح تنظیموں کا وجود عمل میں لایا گیا.اس تقسیم کا اثر سماجی رویوں اور معاشرتی نفسیات پر بھی پڑا اور ہم دنیاوی معاملات میں بھی فرقوں کے زیر اثر آگئے،میرٹ کی بجائے فرقہ دیکھا گیا اور یوں ہم تنزل و زوال اور کاہش و ادبار کا شکار ہوگئے.

ہمیں پاکستان کو مثبت سمت آگے لیکر جانا ہے تو لازم ہے کہ ہم دوسروں کو برداشت کرنا سیکھیں،صحت مند مکالمے کو فروغ دیں،اپنی فکر کو جمود کا دیمک لگنے نہ دیں.
تحریر از فردوس جمال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.