fbpx

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر ایف 14 اور 15 پلاٹس کی قرعہ اندازی معطل کر دی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف 14 اور 15 میں سرکاری ملازمین، ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی معطل کردی۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن متاثرین سے زمین لی گئی اور انہیں پلاٹس الاٹ ہوئے، وہ حکم امتناع سے متاثر نہیں ہوں گے۔

فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر اسٹیٹ اور ڈائریکٹر لا عدالت میں پیش ہوئے ڈی سی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ نے اس معاملے پر کمیٹی بنا دی ہے جو کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی.

سندھ اور بلوچستان میں سی این جی کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک بند

چیف جسٹس نے ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم نے پوچھا تھا کہ وفاقی حکومت بتائے کہ پالیسی کیا ہے؟ برسوں سے منتظر لوگوں کو آپ نے کس طرح جمپ کر کے دوسروں کو پلاٹس دیئے؟

ڈی سی ایف جی ای ایچ ایف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدلیہ، صحافیوں، وکلا اور خود مختار اداروں کو بھی کوٹہ سسٹم کے تحت پلاٹس دیئے جاتے ہیں-

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مزدور کا کیا قصور ہے؟ مزدور کو کیوں پلاٹ نہیں دیتے؟ آپ یہ بتائیں کہ ایف 14 اور ایف 15 میں کتنے اراکین ہیں جنہیں پلاٹ نہیں ملا؟ کوئی ایک ویٹنگ لسٹ بھی تو ہو گی جس میں شامل تمام اراکین کو باری آنے پر پلاٹ ملے گا۔

چیس جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی پالیسی کیا تھی؟ جن کو کرپشن پر نکالا گیا آپ نے ان ججز کو بھی پلاٹ دے دیئے، کیا پالیسی یہی ہے کہ کرپشن کی حوصلہ افزائی کی جائے؟

کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن نے ثابت کیاکہ وزیر اعظم عمران خان ہی واحد قومی لیڈر ہیں…

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ریاست کی زمین کی تقسیم کیسے ہونی ہے اس سے متعلق پالیسی وفاقی کابینہ بنائے گی، کمیٹی پہلے ہی بنا دی گئی ہے، اسے کام کر کے رپورٹ جمع کرانے دیں، یہ ایشو وفاقی کابینہ نے اپنی رپورٹ سے حل کرنا ہے۔

ڈی سی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے کہا کہ متاثرین کو الاٹمنٹ اور ازالے کی رقم دینے کو تیار ہیں مگر وہ تعاون نہیں کر رہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ابھی متاثرین کی بات ہی نہیں کر رہے، آپ کے 31 سے 32 ہزار اراکین پلاٹ کے انتظار میں ہیں یا تو وفاقی حکومت کی پالیسی ہو کہ صرف بے گھر افراد کو پلاٹ ملے گا جو بیچ نہیں سکتا، آپ نے سزا یافتہ اور ملازمت سے برخاست کیے گئے ججز کو بھی پلاٹس دیئے۔

جس پر وکیل نے کہا کہ جب انہوں نے پلاٹ اپلائی کیا ہوگا تو وہ ملازمت پر ہوں گے تاہم ابھی تک کسی کو فائنل الاٹمنٹ لیٹر جاری نہیں کیا گیا، فائنل الاٹمنٹ لیٹر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی منظوری سے جاری ہو گا۔

ملک میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 67 اموات

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پالیسی وفاقی حکومت نے دینی ہے، ان تمام ایشوز کو انہی کو دیکھنے دیتے ہیں بعدازاں پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 اکتوبر کو طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے وسط میں سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت کی عدلیہ کو سیکٹر ایف-14 اور ایف-15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کرتے ہوئے کہا کہ زمین کا یہ ایوارڈ سراسر مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

بھارتی فنکار بھی عمر شریف کی علالت پر تشویش میں مبتلا ، وزیراعظم پاکستان سے مدد کی اپیل

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!