بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے،کہاں ہیں نام نہاد عالمی طاقتیں‌،بھارت کا محاسبہ کریں: وزیراعظم کا اقوام عالم سے تاریخی خطاب

اسلام آباد : بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے، وزیراعظم کا اقوام عالم سے تاریخی خطاب ،اطلاعات کے مطابق بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس انتہا پسند نظریے کی تشکیل 1920 کی دہائی میں کی ہوئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے، آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور عیسائیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ان کا ماننا ہے بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے اور دیگر برابر کے شہری نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گاندھی اور نہرو کے سیکولرزم کی جگہ ہندو راشٹریہ بنانے کے خواب نے لی ہے اور یہاں تک کہ 20 کروڑ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ختم کرکے ہندو ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا اور 2002 میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کا قتل عام وزیراعلی مودی کی قیادت میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 2007 میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر سوار 50 سے زائد مسلمانوں کو زندگی جلادیا۔ان کا کہنا تھا کہ آسام میں امتیازی قوانین کے ذریعے 20 لاکھ مسلمانوں کو جبراً شہریت سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔

بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کے مسلمان شہریوں کی بڑی تعداد کو حراستی کیمپوں میں بھیجا جارہا یے، مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے جھوٹے الزام کے تحت بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو بعض اوقات طبی امداد سے بھی محروم رکھا جاتا اور ان کے کاروبار کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گاؤ رکھشا مسلمانوں پر بلا خوف و خطر حملے کررہے ہیں اور قتل کررہے ہیں، نئی دہلی میں گزشتہ فروری میں پولیس کی ملی بھگت سے مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا گیا، ماضی میں بڑے پیمانے پر رجسٹریشن کا عمل نسل کشی کا باعث بن چکا ہے۔

مثالوں سےواضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جرمنی 1935 میں نیورمبرگ قوانین اور 1982 میں میانمار کی مثال ہے، ہندو روا نظریہ کا مقصد 30 کروڑ سے زائد انسانوں مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو محدود کرنا ہے، جس کی تارخ میں مثال نہیں ملتی اور بھارت کے مستقبل کے لیے بھی یہ نیک شگون نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.