دیکھا مسلمانوں کا حشرنشرکردیا:بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے

0
38

نئی دہلی :بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں پچھلے چند ہفتوں سے شدت آگئی ہے اور اس نفرت کو بھی ہندوانتہا پسند اپنا کارنامہ قراردینے لگے ہیں ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت کی ایک تقریب کے دوران بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کے وزراء اعلیٰ نے مسلم مخالف پالیسیوں اور مسلم دشمنی پر مبنی کارروائیوں کو اپنے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کیا ہے۔

 

ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے ہفت روزہ ہندی اور انگریزی اخبارات کے 75 برس مکمل ہونے پر دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا اور اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اپنی اپنی ریاستوں میں مسلم مخالف اقدامات کو بڑے فخریہ انداز میں پیش کیا۔

یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے سابقہ حکومتوں سے اپنی حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ مذہبی تہواروں کے دوران کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے لیکن اترپردیش میں کوئی فساد نہیں ہوا۔

 

ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ 2012ء سے 2017ء کے درمیان اترپردیش میں 700 فسادات ہوئے لیکن پچھلے پانچ برسوں کے دوران اترپردیش میں کوئی فسادات نہیں ہوئے۔

یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رام نومی کا تہوار اور ہنومان جینتی کی تقریبات بھی شاندار اور پرامن طور پر گزریں جبکہ پہلی مرتبہ رمضان میں جمعتہ الوداع اور عید الفطر کی نمازیں سڑکوں پر نہیں ہوئیں اور مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر پوری طرح غائب ہو چکے ہیں۔انہوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، بنارس میں کاشی وشوا ناتھ مندر کمپلیکس کی تزئین نو اور ریاست میں غیر قانونی ذبیحہ خانوں کو بند کیے جانے کو بھی اپنا کارنامہ قرار دیا۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا نے کہا کہ لفظ مدرسہ کو ہی مٹا دینا چاہیے کیونکہ جب تک یہ لفظ باقی رہے گا اس وقت تک کوئی بچہ نہ تو ڈاکٹر او رنہ ہی انجینئر بن سکے گا۔ مدارس میں بچوں کو داخل کرانا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی تعلیمات پر اخراجات بند کر دیے گئے ہیں۔ تمام مسلمان دراصل ہندو ہیں، اس دھرتی پر کوئی بھی مسلمان نہیں آیا اس لیے اگر کوئی مسلم بچہ قابل تعریف کام کرتا ہے تو اس کا سہرا اس کے ہندو ماضی کو جاتا ہے۔

اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے، دراندازوں کی شناخت کے لیے خصوصی مہم چلانے اور تبدیلی مذہب کے خلاف قانون کو سخت بنانے کے اپنے کارناموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر ریاستیں بھی ان کے اس اقدام کی پیروی کریں گی۔

بھارت کے مسلم رہنماؤں نے بی جے پی کے وزراء اعلیٰ کے بیانات کی سخت مذمت اور اُن پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اسلاموفوبیا کا بدترین نمونہ قرار دیا ہے۔

Leave a reply