fbpx

سیلابی تباہی کو حکومتی سطح پر اکیلے حل نہیں کرسکتے. وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل

وفاقی وزیر صحت کی زیرِ صدارت بلوچستان اور سندھ میں سیلاب کی صورتحال کیلئے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پلیتھا ماہی پالا نے بھی شرکت کی ہے۔

وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ سيلاب کى تباہی کو حکومتی سطح پر اکیلے حل نہیں کر سکتے، صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہيں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سیلاب متاثرین کيلئے دواؤں کی دو کھیپ بھجوا چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پلیتھا ماہی پالا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنایا ہے، وبائی امراض سے بچاؤ کیلئے مخصوص مچھر دانیاں، گولیاں سندھ اور بلوچستان روانہ کردی ہيں۔ پلیتھا ماہی پالا کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت فوری طور پر موبائل لیبارٹری بلوچستان اور سندھ روانہ کرے گی، عالمی ادارہ صحت پانی کو صاف کرنے والی 10 لاکھ گولیاں فوری فراہم کرے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں: سیلاب زدگان کی مدد کیلئے عطیات کیسے جمع کروائیں؟ مریم اورنگزیب نے بتا دیا

دوسری جانب ہرنائی میں اونچے درجے کاسیلاب ہے جس کے باعث علاقے کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور ہزاروں افراد گھر میں محصور ہوگئے۔ ادھر ڈیرہ بگٹی کےسوئی نالے سے نیوی کےغوطہ خوروں نے 2 افراد کی لاشیں نکال لیں جب کہ 2 مزید لاپتا افراد کو آج پھر تلاش کیاجائے گا۔

دریں اثنا: اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور قائم مقام سپیکر زاہد اکرم درانی نے بلوچستان ،سندھ، جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے سپیکر اور قائم مقام سپیکر نے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں پوری قوم سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

علاوہ ازیں: نوشکی میں سیلابی ریلے سے درجنوں دیہات ڈوبنے سے نوشکی چاغی کا رابطہ بھی منقطع ہوگیا، پاک افغان بارڈر پرہزاروں شہری محصور ہوگئے، کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہے۔