fbpx

سیلاب، مہنگائی اور ابتر معیشت جیسے کڑے وقت میں سعودی عرب کا حکومت پاکستان سے تعاون

سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے دیے گئے3 ارب ڈالر کے قرضہ کو ایک سال کے لیے موخر کردیا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کا قرضہ ایسے موقعے پر موخر کیا ہے جب اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 60 کروڑ ڈالر کی سطح پر جاچکے ہیں اور حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور عالمی ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹا لینا جارجیوا کے مابین سائیڈ لائن پر ملاقات طے ہوچکی ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کی سرگرمیاں برسوں تک چل سکتی ہیں اور اس پر 40 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آ سکتی ہے۔

ایک ایڈیٹوریل کے مطابق: سعودی عرب کا یہ اقدام لائق تحسین ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے، جس سے مہنگائی شدت اختیار کر گئی ہے ، اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ سیلاب نے بھی معیشت کو حد سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اب پاکستان بھی ایک قسم کا برمودا ٹرائی اینگل بن چکا ہے، پہلے سے ہی خراب معاشی حالات ہیں، دوسری طرف سیلاب جب کہ تیسری طرف غیر معمولی سیاسی حالات ہیں۔

حکومت اس وقت معاشی بحالی اور سیلاب کی تباہ کاری سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے، تو دوسری طرف منافع خور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح پتا نہیں کتنے لوگ ناجائز منافع کمانے کے لیے مارکیٹ کے حالات خراب کرتے ہیں اور پھر آخر میں پسنا عوام کو ہی پڑتا ہے۔ پاکستان اب تقریباً ہائپر انفلیشن کا شکار ہو چکا ہے اور اب مختلف مافیاز ہی ملکی فیصلے کر رہے ہیں۔ رواں سال ملک میں مہنگائی کی شرح 25 سے 27 فیصد رہنے کا خدشہ ہے، سیلاب سے ملکی معیشت کو دو ہزار ارب روپے سے زائد کا دھچکا لگا ہے۔ سیلاب کی آڑ میں منافع خوروں نے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ ملک میں رواں ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 42.7 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا چیک اینڈ بیلنس کو برقرار رکھنے کا سارا نظام ہی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ملک کے اندر مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کا جینا بھی محال ہوچکا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ بے پناہ قدرتی وسائل اور افرادی قوت کے باوجود ہم مقروض ہیں۔ گزشتہ ماہ اگست میں اوورسیز پاکستانیوں نے ترسیلاتِ زر کی مد میں 207ارب روپے بھجوائے اور آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے کے باوجود ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اربابِ اقتدار کی ناقص پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی و معاشی استحکام ناگزیر ہے۔ ایک طرف ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 6ہزار میگا واٹ ہونے سے چھ سے آٹھ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے تو دوسری طرف بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لوگ گھروں کا راشن خریدنے کے بجائے ٹیکسوں کی بھر مار پر مشتمل بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار ہے، ملک میں مختلف کارٹیلز بھی (کاروباری مافیاز) مضبوط ہوگئے۔ یہ کارٹیلز بنیادی اشیائے خورونوش اور پٹرولیم کی قیمتوں اور سپلائی کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ درحقیقت حکومت ان اندرونی اور بیرونی گروہوں ( کارٹیلز) کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ اس وقت ریاست کا معاشی انتظام غریب عوام پر بھاری اور تکلیف دہ ٹیکس نظام کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جو طویل مدت تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ پچھلے کچھ سالوں سے ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بار بار پاکستان میں آنے اور کاروبار کرنے کی دعوت دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک اس کا ہمیں بہت کم فائدہ ہوا ہے۔ کاروباری حوالے سے ہمیں اپنے قوانین دوستانہ بنانے اور بزنس سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل محاذ آرائی کی وجہ سے معاشی بحران سنگین رخ اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں غریب عوام کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے ملک میں معاشی استحکام لانے کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی کے باوجود حالات بے قابو ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ڈالر کی قدر پاکستانی روپے کے مقابلے میں گزشتہ کئی روز سے مسلسل اضافے کی جانب گامزن ہے۔

ملک میں موجودہ سیاسی ہلچل، سیلاب کی وجہ سے معیشت کی ابتر ہوتی صورتحال اور چند عالمی وجوہات کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں مستقبل قریب میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ بیرونی فنانسنگ کے آنے سے کچھ دن تو ڈالر کی قیمت میں کمی ہو سکتی ہے لیکن مارکیٹ کے حالات کی وجہ سے روپے کی قدر میں اضافے کا امکان نہیں۔ اس خوف ناک اضافہ کی وجہ درآمدات میں اضافے اور معاشی غیر یقینی کو بھی کہا جا رہا ہے۔ معاشی مسائل پہلے ہی قابو میں نہیں آ رہے تھے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ان مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو حالات نظر آ رہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سیلاب کے بعد ملک کی خوراک کی ضرورت کو بھی درآمدات سے پورا کیا جائے گا تو ایسی صورتحال میں تو پاکستانی روپے کے لیے حالات سازگار دکھائی نہیں دے رہے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں سب سے اہم رول تجارت کا ہوتا ہے۔ اب ہمیں پاکستان میں ڈالر فلو بڑھانا تھا کیونکہ ہماری درآمدات، برآمدات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو چکی تھیں، یعنی ہم صرف چیزیں خرید ہی رہے تھے، بیچتے نہیں تھے۔

مالی سال 2021 میں پاکستان نے 25 بلین ڈالر کی برآمدات کی تھی جب کہ ہماری درآمدات 56 بلین ڈالر تھی۔ اب جب چیزیں بکے گی نہیں تو ملک میں ڈالر کیسے آئے گا ؟ اور اگر چیزیں خریدتے جائیں گے تو روپیہ اپنی قدر کھو دے گا اور جو پاکستان میں ڈالر موجود ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ منصوبہ درست تھا لیکن یہ کسی کے خیال میں نہیں تھا کہ ہمیں ایک دم سیلاب جیسی مشکل قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے، حکومت وقت کو ضروری اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وطن عزیز میں سیلاب زدہ علاقوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکے، زراعت میں بہتری کے لیے سستے بیج، کھاد اور بجلی کی فراہمی، سیلاب کے پانی کی وجہ سے زمین زیادہ پیداوار دیتی ہیں اگر فوری طور پر کسانوں کو یہ مراعات دی جاتی ہیں تو اگلے سال ہماری فصلیں پیداوار زیادہ دیں گی۔

بلند شرح سود جو معاشی ترقی کی راہ میں حائل ہے اس کو ختم ہونا چاہیے، پانی کی فراہمی کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اسے فوری بحال کیا جائے، سیلاب زدہ علاقوں کو ٹیکس فری زونز قرار دینا چاہیے، اور ان علاقوں کے لیے بجلی کے ٹیرف کو کم کر دینا چاہیے، ملکی اور غیر ملکی امداد سے ادویات اور خوراک کا فوری انتظام ضروری ہے، چھوٹے کسانوں کو جن کی زمین 30 ایکڑ سے کم ہے ان کے قرضے معاف کرنے چاہئیں اور حکومت کے ساتھ مل کر سب اسٹیک ہولڈرز کو دنیا کی توجہ ہمارے ملک پر آئے ہوئے اس بھیانک ڈیزاسٹر کی طرف کرانی چاہیے تاکہ پاکستان میں جلد از جلد ہنگامی بنیادوں پر امداد مہیا کی جائے۔

جو قرض ادا کرنا ہے تمام ممالک سے اس کو ختم یا کم کرنے کی بات کی جائے، ایکسپورٹ کے لیے خام مال جو درآمد کیا جاتا ہے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے خام مال پر ٹیکس کو ختم کیا جائے۔ وطنِ عزیز کا آدھا حصہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے اور باقی مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔ مسائل حل کرنا کسی ایک پارٹی کے بس کی بات نہیں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کی جانب سے اگر بروقت ذمے دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے لیے سوچتی۔

پاکستان کو اس وقت 30سے 40ارب ڈالر کی اشد اور فوری ضرورت ہے۔ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، انفرا اسٹرکچر تباہ اور ساڑھے تین کروڑ افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ متاثرین کی بحالی اصل کام ہے، اس کے لیے حکومت کو یکسوئی سے کام کرنا ہوگا۔