fbpx

سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی شہروں میں سیلاب سے تباہی مچی ہوئی ہے

سیلابی پانی میں شہری محصور ہو چکے، گھر تباہ ہو چکے، مویشی مر چکے، گھروں کا سامان بہہ گیا، سیلابی علاقوں میں لوگ کھانے پینے کو ترس گئے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،حکومت ، پاک فوج، رفاہی ادارے سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک یہ مدد کچھ بھی نہیں، انسانی زندگیوں کو محفوظ کرنا ہے، انکے املاک کو بچانا ہے

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے آپٹیکل فائبر کیبل کو پہنچنے والے نقصان اور بجلی کی بندش سے چترال، اپر دیر، دونبالا، سوات، مدین، لال قلعہ ثمربغدیر، ٹانک اور ڈی آئی خان میں رابطہ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سروسز کی مکمل بحالی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔

ہرنائی، کیچ کے مقام پر پل ٹوٹنے سے کوئٹہ زیارت روڈ بند ہو گیا ہے، ہرنائی ٹو کوئٹہ شاہراہ مانگی اور زردآلو پل ٹوٹنے سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چیئر لفٹ پر پہاڑی تودا گرنے سے راستہ بند ہوا،ہرنائی پنچاب شاہراہ بھی سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہے

میانوالی سے سکھر تک دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے، دریائے سندھ کے قریب رہنے والے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم جاری کردیا گیا ہے، میانوالی،لیہ،تونسہ،راجن پور،روجھان،رحیم یار خان، خان پور کو بھی ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے، پورے ضلع رحیم یار خان کو سیلاب سے متاثر ہونے کی وارننگ جاری کی گئی ہے، ضلع میں صادق آباد،رحیم یار خان،خان پور،لیاقت پور،اور دیگر مضافاتی علاقے شامل ہیں

دوسری جانب نوشہرہ ،پولیس لائن کے قریب پانی مین جی ٹی روڈ تک پہنچ گیا پولیس لائن کے قریب آبادی اور ہوٹل زیر آب آگئے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائے کابل میں پانی کے سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مختلف علاقوں سے دریائے کابل کے کنارے متاثرین کی نقل مکانی جاری ہے

چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی نیشنل پریس کلب میں پاکستان سویٹ ہوم اور پی ایف یو جے کے مشترکہ فلڈ ریلیف کیمپ میں آمد۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ بھی چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ تھے۔ امدادی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورت حال کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسطرح کے سیلاب اور بارشوں سے کوئی بھی حکومت اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ساری قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ نے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے چاروں صوبائی حکومتوں کی کوششوں کو سراہا۔ انکا کہنا تھا کہ فوری امدادی کاموں کے بعد سیلاب متاثرین کی بحالی اصل مرحلہ ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے امدادی کیمپ میں مدعو کرنے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک کو اس وقت اسطرح کی مزید کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امداد کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ کے حضور جُھک کر دعا کرنی چاہیے کہ اللہ پاک ہماری غلطی کوتاہیاں معاف فرمائے اور متاثرین کی مشکلات میں کمی فرمائے۔

علاوہ ازیں بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سرگرمیوں شروع کر دی گئی ہے ،ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سبی اوردیگر اضلاع میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد راشن پہنچا دیا گیا ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی مسلسل جاری رہے گی،مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے کوئٹہ میں میاں غنڈی کا دورہ کیا مشیر داخلہ بلوچستان نے میاں غنڈی کے متاثرین سیلاب سے ملاقات کی اور کہا کہ سڑکوں اور شاہراوں کو بند کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،پورا پاکستان سیلاب سے متاثر ہے،یہ کسی ایک علاقے کی بات نہیں،مکینوں کی بحالی کےلیے جلد ازجلد اقدامات کیے جائیں گے

30 جون 2022 سے 26 اگست 2022 کے درمیان سیلاب اور بارشوں کے باعث گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں 14 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوئے ہیں گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں مختلف قدرتی آفات سے 4 ارب روپے سے زائد مالیت کی عوامی املاک تباہ ہوئی ہیں اس میں 383 مکمل طور پر تباہ شدہ گھر اور257 جزوی طور پر تباہ شدہ “پکے” گھر شامل ہیں 52 پل بھی تباہ ہوئے ہیں جس سے 360 ملین روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ان تباہ شدہ پلوں میں سے 43 کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے سرکاری تخمینے کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران گلگت بلتستان کو 7 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں نے متاثرین کی بحالی کے لئے امدادی سرگرمیاں تیز کر دیں ہیں اور اب تک 62 ونٹرائزذ ٹینٹس، 769 ٹینٹس، 666 راشن بیگز، 326 کمبل، 162 رضائیاں، 422 فوم میٹریس، 419 سرانے، 690 پلاسٹک میٹس، 360 گیبنز، 126 ترپال، 50 سینڈ بیگز، 59 سلیپنگ بیگز، 1 جنریٹر(3.5 کلوواٹ)، 1 واٹر ٹینک، 4 پورٹیبل واش رومز متاثرہ خاندانوں اورعلاقوں کو مہیا کردیئے گئے ہیں

ٹھٹہ پولیس نے دريا سندھ جرار بیلے میں پھنسے مزید 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا ایس ایس پی ٹھٹہ عدیل حسین چانڈیو کی ہدایات پر ٹھٹہ پولیس کی جانب سے حالیہ بارشوں میں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے، ایس ایچ او کینجھر سب انسپیکٹر بشیر احمد ملاح بمعہ اسٹاف نے رات کے وقت دریا سندھ جروار سونڈا بیلے میں پھنسے ہوئے چانگ اور ملاح قوم کے 40/50 فیملیز کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کرکے نکالا گیا تھا اس کے علاوہ ولیج انور ملاح جرار بیلے میں پھنسے ہوئے مزید 17 فیملیز جن میں 50 سے زائد بوڑھے، عورتیں، بچے شامل ہیں جن کو سیلاب ریسکیو کرکے نکالا گیا ہے مزید ریسکیو کا سلسلہ جاری ہے ایس ایس پیب ٹھٹہ نے کہا کہ پولیس عوام کی خدمت اور قانون کی عملداری کیلئے ہر وقت تیار اور پر عزم ہے، ٹھٹہ پولیس کہ افسران اور اہلکار متاثرہ علاقوں میں موقع پر موجود ہیں ، اس کے علاوہ کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے،

صدرپیپلزپارٹی خیبرپختونخوا نجم الدین کا کہنا ہے کہ وادی کمراٹ دیر میں 18سیاح پھنسے ہوئے ہیں،وادی کمراٹ دیر میں پھنسے سیاحوں کو مقامی لوگوں نے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی،وادی کمراٹ دیر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو مقامی لوگ نہیں نکال پا رہے وادی کمراٹ دیر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی نکالنا ممکن ہے،ہم صوبائی حکومت اور اداروں سے متعدد بار ہیلی کاپٹر کی درخواست کر چکے وفاقی یا صوبائی حکومت جلد از جلد سیاحوں کو نکالے ورنہ کوئی بھی سانحہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ بارشوں او رسیلاب سے ملک بھر میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں ہم سب کو ایک ہو کر متاثرین سیلاب کی زندگیاں بچانے پر توجہ دینی چاہیے سیلاب متاثرین کو مناسب غذائیت اور پناہ گاہیں فراہم کرنا ہوں گی،سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے حکومتی ،فوجی ، ملکی اور مقامی رضاکار واہلکار سرگرم ہیں میڈیا والے سیلاب کی اپیلیں چلا رہے ہیں جو قابل تعریف ہے

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے اعلان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ خاندانوں میں 25 ہزار روپے کی نقد رقم تقسیم کی جارہی ہے اور ضلع کوہلو کے 4904 مستحق خاندانوں میں رقم کی تقسیم کا عمل جاری ہے

علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے صوبائی وزیر مال نوابزادہ منصور علی خان کی ملاقات ہوئی ہے، نوابزادہ منصور علی خان نے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے چیک دیا .وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مالی امداد کے چیک پر نوابزادہ منصور علی خان کا شکریہ ادا کیا ,وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے جذبے کو سراہا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لئے آگے آنا عبادت سے کم نہیں۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یقین ہے کہ قوم متاثرین کی بحالی اور آبادی کاری کے کار خیر میں بھرپور حصہ ڈالے گی صاحب ثروت افراد کی دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد میں پیش پیش ہوں حکومت پنجاب متاثرین کی مدد کے لئے تمام ممکنہ وسائل مہیا کررہی ہے۔ پنجاب حکومت کی سیاسی و انتظامی ٹیم ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی نگرانی کے لیے فیلڈ میں موجود ہے۔جنوبی پنجاب میں غیر معمولی بارشوں و سیلاب سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ تباہ کاریوں کوالفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقت اختلافات بھلا کر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے۔ اصل سیاست اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت ہی ہے ۔

قبل ازیں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر پنجاب پولیس کے جوان الرٹ اورامدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں پولیس متاثرہ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہی ہیں۔آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کے حکم پر تمام سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس کی امدادی ٹیمیں متحرک ہیں، جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کی سیلابی صورتحال اور امدادی سر گرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، آئی جی پنجاب کے حکم پر دریائے سندھ میں سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، اٹک، میانوالی ، بھکر ، لیہ، مظفرگڑھ ، رحیم یار خان اور ڈی جی خان ریجن کے علاقوں میں پنجاب پولیس کی امدادی ٹیمی تعینات ہیں،پولیس کی اضافی نفری رود کوہیوں کے راستوں ،نشیبی علاقوں اور کچہ میں بھی تعینات ہیں،

ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان ریجن میں پولیس ٹیموں نے اب تک سیلابی پانی میں گھرے 13 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے ۔ سیلاب زدہ علاقوں سے پولیس ٹیموں نے 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو ریسکیو کیا ہے ۔ سیلاب زدگان میں 15 ہزار سے زائد امدادی سامان کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں ۔ریجن کی تمام دریائی چوکیاں ہائی الرٹ ہیں اور کشتیوں کے ذریعے بھی گشت جاری ہے ۔پولیس دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں موجود آبادیوں کو مطلع کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔پولیس دیگر اداروں کے ہمراہ ریلیف اور بحالی کے کاموں میں مصروف عمل ہے۔آزمائش کی اس گھڑی میں پولیس اپنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر اور عمران خان کے چیف آف سٹاف سینیٹر شبلی فراز صاحب سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور کہا کہ میری طرف سے عمران خان سے درخواست کریں کہ سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کریں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔سب کام چھوڑ کر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں کی دوبارہ بحالی کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی، خوارک اور ادویات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصان کا ازالہ کریں گے اور مکانات دوبارہ بنا کر دیں گے۔ سیلاب سے متاثرین کی بحالی تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین میڈیکل کالج ولاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی امداد اور ریلیف سرگرمیوں کے لئے 6رکنی کمیٹی قائم کر دی جو مخیر حضرات سے متاثرین سیلاب کی فوری امداد و بحالی کے لئے نقد رقوم کے علاوہ راشن، خوراک، ادویات، کپڑے کی مد میں بھی عطیات وصول کرے گی اور اس حوالے سے فوری طور پر کام شروع کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے گی۔پروفیسر الفرید ظفر نے پی جی ایم آئی سے فارغ التحصیل بیرون ملک خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹرز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی طور پر آگے آئیں اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی عملی مدد کریں۔انہوں نے شہریوں اور میڈیکل کمیونٹی سے درخواست کی کہ پی جی ایم آئی کی تشکیل کردہ اس ریلیف کمیٹی کو دل کھول کر عطیات دیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے یقین دلایا کہ اس مد میں وصول ہونے والی ایک ایک پائی کو دیانتداری کے ساتھ متاثرین کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا لہذا وہ کھلے دل کے ساتھ دکھی انسانیت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر محمد حنیف میاں اس ریلیف فنڈکمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ڈاکٹر محمد عرفان ملک، ڈاکٹر رضوان فاروق، ڈاکٹر عمران حیات،ڈاکٹر جہانزیب عقیل اور ڈاکٹر احمد فراز اس کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

پروفیسر الفرید ظفر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی اترنے کے بعد وبائی امراض،جلد و پیٹ کی بیماریاں، ملیریا، ٹائیفائیڈ پھیلنے کے امکانات ہیں جس کے کیلئے میڈیکل کمیونٹی کو ابھی سے تیار رہنا ہوگا اور متعلقہ اداروں کو بھی ان بیماریوں سے بچاؤ اور مریضوں کے بہتر علاج کیلئے ضروری انتظامات کو عملی شکل دینا ہوگی تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ ان حالات میں ہم سب کو اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا

وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

لک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے900 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے

بالاکوٹ، آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے،سوات میں عمارت گرنے کا خوفناک منظر، ویڈیو

پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،