fbpx

بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی-

باغی ٹی وی :ایک لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کو دریائی پانی میں مہم سر کرتے ہوئے ایک سیلفی بھیجی لیکن سیلفی لینے میں ایک نادانی کی وجہ سے لڑکا شرمندگی کے مارے اب اپنی گرل فرینڈ کی کالز ریسیو کرنے سے کترانے لگا ہے۔

ٹک ٹاکر اسٹار انجیلا نے اپنے مداحوں کے ساتھ یہ واقعہ ویڈیو میں شیئر کیا کہ جس میں پیچھے ان کے بوائے فرینڈ کی تصویر لگی ہے جو اس نے انجیلا کو بھیجی تھی۔

تصویر کو قریب سے دیکھا جائے تو لڑکے کے چشمے میں صاف طور سے دیکھا جاسکتا ہے کہ کشتی میں سیر و تفریح کے دوران ان کے ساتھ کوئی دوسری خاتون بھی بیٹھی ہیں۔

سیلفی لیتے ہوئے لڑکے نے شاید اس ‘نازک پہلو’ پر غور نہیں کیا بعد میں جب پتہ چلا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔

اس سے قبل کینیڈا میں ایک لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کی محبت کا امتحان لینے کے لیے اپنی ایک سہیلی کو اسے اپنی طرف لبھانے کے لیے کہہ دیا اور جب سہیلی نے اس کے بوائے فرینڈ کو فیس بک پر پہلا میسج ہی کیا تو ایسا جواب آ گیا کہ لڑکی کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔

18سالہ ایما میک نامی لڑکی نے یہ واقعہ اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ em_mac11پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سنایا تھا ایما نے کہا تھا کہ میری سہیلی کو اپنے بوائے فرینڈ پر شبہ تھا، کیونکہ وہ اسے کسی صورت اپنے فون کے قریب نہ پھٹکنے دیتا تھا۔ اس پر میری سہیلی نے مجھے اس سے سوشل میڈیا پر رابطہ کرنے کو کہا تاکہ ٹیسٹ کیا جا سکے کہ وہ وفا شعار ہے یا بے وفا۔ میں نے فیس بک پر اس لڑکے کو ایک میسج بھیجا جس میں میں نے اس کی کچھ تعریف کی تھی میرے اس میسج کے جواب میں اس نے کہا کہ ”بہت شکریہ، مگر میں اس وقت کسی اور لڑکی کے ساتھ تعلق میں ہوں۔

ایما کا کہنا تھا کہ میں نے اسے کچھ باتوں میں لگا کر پوچھا کہ وہ کون خوش نصیب ہے جس کے ساتھ تم تعلق میں ہو، تو اس نے مجھے ایک تصویر بھیج دی جس میں اس کے ساتھ ایک لڑکی موجود تھی۔ یہ لڑکی میری سہیلی نہیں تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ لڑکی کون ہے تو وہ بولا کہ یہ میری منگیتر ہے۔میری سہیلی تو سوچ رہی تھی کہ اس کے بوائے فرینڈ نے شاید کسی دوسری لڑکی کے ساتھ تعلق قائم کر رکھا ہے مگر وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ درحقیقت دوسری کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود تھی، جبکہ پہلی لڑکی تو وہ تھی جس کے ساتھ اس کی منگنی ہو چکی تھی۔“