سینیٹ الیکشن ہارس ٹریڈنگ، پرویز خٹک کے کہنے پر پیسے لیے،ثبوت موجود ہیں : عبید اللہ مایار

پشاور: سینیٹ الیکشن ہارس ٹریڈنگ، پرویز خٹک کے کہنے پر پیسے لیے،ثبوت موجود ہیں : اطلاعات کے مطابق سابق ایم پی اے عبیداللہ مایار کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے کہنے پر سب کو ایک ایک کروڑ روپے دیے گئے، پرویز خٹک کے کہنے پر پیسے لیے۔

سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی مبینہ ویڈیو کے معاملے پر سابق ایم پی اے عبیداللہ مایار کا کہنا ہے کہ میرا فون بند نہیں تھا مصروف تھا، فون بند کرکے چھپوں گا نہیں۔ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس میں وزیراعلیٰ کے کہنے پر بنائی گئی ہے، منتیں کرکے انہوں نے ہمیں پیسے دیے کہ آپ ہماری طرف سے الیکشن لڑیں۔

سابق ایم پی اے عبیداللہ مایار کا کہنا ہے کہ یہ پیسے حکومت کی جانب سے دیے گئے تھے، انہوں نے اپنے پیسے دینے والی ہی ویڈیو شیئر کی ہے، یہ پیسے صوبائی حکومت نے ہمیں منتیں کرکے دیے، سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے کہنے پر سب کو ایک ایک کروڑ روپے دیے گئے، پارٹی فنڈز کے نام پر فنڈز دیے گئے۔

سابق ایم پی اے عبیداللہ مایار کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اور سپیکر نے ہمارے نام پر 4،4،5،5، کروڑ لیے۔ یہ پیسے ہمیں الیکشنز لڑنے کیلئے دیے گئے، یہ پیسے ہمیں سینیٹرز کے نمائندوں نے دیے۔سینیٹر فدا خود جاکر پیسے دیتا تھا۔

سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار نے کہا کہ میں مان رہا ہوں کہ پیسے لیے لیکن پیسے حکومت سے لیے، میں نے اس وقت بھی آواز بلند کی تھی کہ سپریم کورٹ اس پر ایکشن لیں، ویڈیو ایڈیٹ کی گئی، اس ویڈیو کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیں۔

خیال رہے کہ2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت کی مبینہ ویڈیو منظرعام پرآگئی۔ ویڈیو میں اراکین اسمبلی کو پیسے گنتے اور بیگ میں ڈالتے دیکھا جاسکتا ہے۔

2018کی اس وڈیو میں موجودہ وزیرقانون خیبرپختونخوا سلطان محمد خان بھی موجود ہیں جبکہ ویڈیو میں پیپلزپارٹی کے سابق ایم پی اے محمد علی باچا رقم پی ٹی آئی ارکان کو دیتےنظرآرہے ہیں، وڈیو میں سلطان محمد خان رقم وصول کرکے بیگ میں رکھ لیتے ہیں، پی ٹی آئی کے سردار ادریس بھی وڈیو میں موجود ہیں اور رقم وصول کرتےنظر آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے ووٹ فروخت کرنے پر20ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سینیٹ انتخابات 2021اوپن بیلٹنگ سے کرانا چاہتے ہیں ۔حکومت اوپن بیلٹ کیلئے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس بھی دائر کر چکی ہے اور اوپن بیلٹنگ کے لئے ایک آرڈیننس بھی جاری کرچکے ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے مشروط ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتیں جن میں پاکستان مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی اور جے یوآئی(ف) ہیں ، ان جماعتوں نے سپریم کورٹ میں اوپن بیلٹ صدارتی ریفرنس کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے اوپن بیلٹ کی مخالفت کردی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.