سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعمیرات کا اجلاس، 50 لاکھ گھروں‌ کی تعمیر و دیگر منصوبوں‌ کا جائزہ

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے مکانات و تعمیرات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر کبیر احمد محمدشاہی کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کی نئے 50لاکھ گھروں کی تعمیر اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام، فیڈریل گورنمنٹ ایمپلا ئز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی بھارہ کہو کی ہاؤسنگ سکیم کے علاوہ سینیٹر کلثوم پروین کی 19ستمبر 2018کو سینیٹ اجلاس میں اُٹھایا گیا معاملہ برائے ضلع اسلام آباد کے موضع تما ں اور موریاں سے زبردستی مالکان سے زمین لینے کے معاملات کے علاوہ سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کے سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال سیکٹر-1 G/14 میں الاٹیوں کو پلاٹ الاٹ نہ کر نے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر مکانات و تعمیرات طارق بشیر چیمہ اور ڈئرایکٹر جنرل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں آچکا ہے۔قائمہ کمیٹی کو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کم لاگت والے سستے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں وزیراعظم پاکستان نے 21 اپریل2019 کو ہاؤسنگ پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے میں 1350 یونٹس تعمیر کیے جائیں گے اس کیلئے ساڑھے سات ہزار درخواستیں آچکی ہیں۔ وفاقی سرکاری ملازمین اور بلوچستان کے صوبائی ملازمین اور ہزارہ کمیونٹی کے شہدا کے لواحقین کے علاوہ عوام الناس بھی پراجیکٹ کے اہل ہونگے۔اس منصوبے کا پی سی ون بن رہا ہے اور 29 جولائی کو اس کی قرہ اندازی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ گوادر پراجیکٹ کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 200 ایکڑ زمین پی ایچ اے کو منتقل کر دی گئی ہے۔ یہ مطلوبہ زمین صرف ماہی گیروں کے لئے مختص کی گئی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بنک نے تمام کمرشل بنکوں کو ہدایت جاری کیں تھیں کہ ہاؤسنگ منصوبے کیلئے 5 فیصد قرضے مخصوص رکھے جائیں۔50 لاکھ گھروں کامنصوبہ غریب عوام کیلئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تشکیل دیا گیا۔ کمرشل بنکوں سے عوام آسان اقساط پر قرض حاصل کرے گی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی 2 ہاؤسنگ سکیمیں بنائی جارہی ہیں۔50 لاکھ گھروں کے منصوبہ کیلئے تین صوبائی حکومتوں کے ساتھ سکیمیں شروع کی جارہی ہیں۔ا ے جے کے میں 6 ہزار گھروں کیلئے 2 سکیمیں مظفرآباد اور میر پور میں شروع کی جائیں گی۔ مظفرآباد میں 120 کنال اور میر پور میں 800 کنال اراضی حاصل کی جائے گی۔

طارق بشیر چیمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں 11 ملین گھروں کی کمی ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی بھر پور کوشش ہے کہ 5 ملین گھروں کی کمی کو جلد سے جلد پورا کیا جا سکے اور اس کیلئے دن رات کام کیا جارہا ہے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی اس منصوبے پر محنت و لگن سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے پر شفاف انداز میں کام کیا جارہا ہے اگر وزارت کے عملے کی طرف سے کرپشن کا عنصر پایا گیا تو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔گھر فارم کو آسان بنایا گیا ہے جس میں لوگوں سے ان کی آمدن پوچھی گئی ہے تاکہ اس کی مناسبت سے گھر تعمیر کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اس سے 42مختلف صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ روزگار میں اضافہ ہوگا۔

بہارہ کہو ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ منصوبہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا جتنی تاخیر کی گئی ہے اس کی انکوائری ہونی چاہیے اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بہارہ کہو سکیم اور اسلام آباد کے سیکٹر G/14 کے حوالے سے ون ایجنڈا کمیٹی اجلاس بلا کر معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ سینیٹر سجاد حسین طوری نے کہا کہ بہارہ کہو سکیم کے حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ایک رپورٹ بھی پیش کی تھی اس کا جائزہ لے کر پھر فیصلہ کیا جائے۔سینیٹر کلثوم پروین کے 19ستمبر 2018کو سینیٹ اجلاس میں اُٹھایا گیا معاملہ برائے ضلع اسلام آباد کے موضع تما ں اور موریاں سے زبردستی مالکان سے زمین لینے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی اس پر بحث کی جائے تو بہتر ہے۔ موریاں کیلئے فی کنال15 لاکھ اور تماں کیلئے فی کنال30 لاکھ خریدنے کی ہدایت کی گئی تھی وہاں کی زمین کی قیمت ایک کروڑ روپے فی کنال بنتی ہے۔مالکان کہتے ہیں مناسب قیمت لگا کر فیصلہ کیا جائے۔سپریم کورٹ جو حکم دے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی میر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے سینیٹر کلثوم پروین کی درخواست پر معاملہ سنا گیا ہے وزارت سینیٹر کلثوم پروین کو سابق وزیراعظم کے وہ خط(Directive) وزارت فراہم کرے۔اسلام آباد کے سیکٹر G/14-1 میں الاٹیوں کو پلاٹ الاٹ نہ ہونے کے حوالے سے ڈی جی فیڈرل ایمپلائز گورنمٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے کمیٹی نے بتایا کہ سیکٹر G/14 کو کلیئر کونے کیلئے اربوں روپے کی ضرورت ہے متاثرین کو نئی جگہ دینی ہے۔سی ڈی اے فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ معاملہ بھی نیب کو بھیجا جائے۔ کس وجہ سے معاملات تاخیر کا شکار ہوئے۔جس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں بہارہ کہو سکیم کاذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے تناظر میں اور سیکٹرG/14 کے حوالے سے سی ڈی اے حکام کو طلب کر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز انور لال دین، بہرہ مند خان تنگی، بریگیڈیئر (ر) جان کنتھ ویلمز، خانزادہ خان، مرزا محمد آفریدی، مولانا عبدالغفور حیدری، لیفٹینٹ جرنل (ر) صلاح الدین ترمذی، نصیب اللہ بازئی، سجاد حسین طوری اور کلثوم پروین کے علاوہ وفاقی وزیر مکانات اور تعمیرات طارق بشیر چیمہ، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تعمیرات،ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.