fbpx

سینیٹ کا ٹکٹ یا جنت کا ٹکٹ:مبشرلقمان نے ساری حقیقت کھول کررکھ دی

سینٹ ٹکٹوں کے حوالے سے ایسے شور و غوغا جاری ہے۔ جیسے سینٹ نہیں بلکہ جنت کا ٹکٹ ہو پہلی بار اتنی لے دے ہو رہی ہے۔ وگرنہ اسی سینٹ کے انتخابات ہوتے تھے تو پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ ۔۔۔
۔ کب ہوئے۔
۔ کیسے ہوئے۔
۔ کون جیتا کون ہارا۔

۔ اب یہ عالم ہے کہ ایک ایک ٹکٹ کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔
۔ کیوں دی۔
۔ کیسے دی۔
سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ  دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ وزیر اعظم بھی اپنی مرضی سے ٹکٹیں دینے سے قاصر نظر آتا ہے فیصلے تبدیل ہو رہے ہیں۔ تنقید ہورہی ہے ۔ الزامات لگ رہے ہیں۔ کروڑوں روپے لے کر ٹکٹیں دینے کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اپنے ذاتی دوستوں اور فیملی فرینڈز کو نواز رہے ہیں۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ معاملہ تو شروع ہوا تھا سینٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے الزام سے اور بات ٹکٹوں کی خریداری کے الزامات تک چلی گئی ہے یہ سینٹ آخر ہے کیا۔
کیا سونے کی کان ہے؟

ان سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے باغی گروپ بھی سامنے آگئے ہیں ۔

 

 

 

 

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ان آٹھ اراکین اسمبلی نے ہم خیال گروپ تشکیل دیکر مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کو پیغام بھجوایا ہے ۔ جبکہ وزیراعلی پنجاب سے بھی ظاہری اور درپردہ ان کی بات چیت ہوچکی ہے ۔ تاہم عمران خان کے سینٹ الیکشن میں فلور کراسنگ کے مؤقف کے باعث مسلم لیگ ن کے اراکین نے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پارٹی قیادت میں انہیں عزت اور احترام نہیں دیا جاتا نہ ان کی بات سنی جاتی ہے ۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دوسری طرف تحریک انصاف کے بھی سات سے آٹھ اراکین اسمبلی نے اپنا علیحدہ گروپ تشکیل دے کر قیادت کو سخت پیغامات بھجوانا شروع کردئیے ہیں اور موقف ہے کہ ان کے حلقے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ترقیاتی فنڈز میں بہتر حصہ نہیں دیا جارہا اگر سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ الیکشن پراسس میں شامل نہیں ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے رکن اسمبلی خواجہ داود گروپ کو منانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔

 

 

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ابھی تک صورتحال یہ ہے کہ سینٹ انتخابات خواہ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش کے مطابق اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں یا پرانے خفیہ رائے شماری کے طریقہ کار کے ذریعے۔ کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی خصوصاً وزیر اعظم عمران خان جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور ناراض ارکان اسمبلی کو منانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس کی تازہ مثال وزیر اعظم سے پی ٹی آئی کے ناراض رکن پنجاب اسمبلی خرم لغاری کی ملاقات ہے۔ وزیراعظم نے خرم لغاری کو حلقے کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی جس پر خرم لغاری نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اگر سینیٹ انتخابات کے حوالے سے پنجاب کا جائزہ لیا جائے تو بزدار صاحب کی ڈھیلی ڈھالی حکومت سے بہت سے اراکین اسمبلی شکوہ کناں ہیں۔ وزیر اعظم ذاتی طور پر بیشتر افراد کو نہ جانتے ہیں نہ ان کا ان سے مسلسل رابطہ ہے۔ اس لیے پنجاب میں کئی ارکان اسمبلی اپنی مرضی کر سکتے ہیں۔ جس سے یہ تاثر ابھرے گا کہ تحریک انصاف کے اندر بہت سے لوگ ناراض ہیں۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ بات بہر حال طے ہے کہ اگر پنجاب میں سینیٹ الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے ہوا تو پی ٹی آئی کے اندر کی کئی ناراضگیاں کھل کر سامنے آئیں گی اور پی ٹی آئی الیکشن سے طاقتور ہونے کے بجائے کمزور ہو کر سامنے آئے گی۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب نواز شریف کا اقتدار انتہا پر تھا تب بھی ن لیگ کے لوگوں نے نواز شریف کے قریبی ساتھی زبیر گل کو ووٹ نہیں دیا تھا۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیونکہ اس وقت سیکرٹ بیلٹ تھا اس لیے یہ پتہ نہ چل سکا کہ وہ باغی افراد کون تھے مگر بعد ازاں یہ اندازہ ہوا کہ ن لیگ کے کئی افراد نے موجودہ گورنر چودھری سرور کو ووٹ ڈال کر سینیٹر بنانے میں مدد کی تھی۔

 

 

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر اب بھی سیکرٹ بیلٹ جاری رہا اور پی ٹی آئی ووٹروں کی مرضی سے سینیٹرز کو ٹکٹ نہ ملے تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بڑے اپ سیٹ ہو سکتے ہیں۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور سابق سینئر صوبائی وزیر عاطف خان کے درمیان اختلافات بھی دور ہو گئے ہیں۔اس کو بھی سینیٹ الیکشن سے جوڑا جا رہا ہے۔ دوسرا پرویز خٹک کے خواہشوں کے باوجود ان کے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں ملے ۔ اب دیکھنا ہے کہ بیلٹ جب کھولیں گے تو وہ کیا گھل کھلائیں گے ۔ یا نہیں ۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں بہرحال اختلافات موجود ہیں جو وقتی طور پر تھم تو سکتے ہیں لیکن ختم ہوتے مشکل نظر آتے ہیں۔ ویسے پی ٹی آئی اپنے حقیقی کارکنوں کو سامنے لاتی تو اتنا شور شرابہ نہ ہوگا ۔ عمران خان جو جوڑ توڑ کی سیاست کے حوالے سے اپنی مخالف جماعتوں پر الزام لگاتے تھے ۔ لگتا ہے کہ انہوں نے بھی اب وہ ہی فارمولا اپنا لیا ہے۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے رحمان ملک کو ڈراپ کرکے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا جن کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیس بھی پوری نہیں ہورہی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ حاصل کرنے والوں میں اکثریت مریم نواز گروپ کی نظر آتی ہے۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے بھی بعض ٹکٹ صاحب ثروت لوگوں کو الاٹ کئے ہیں لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کہ جن کو پارٹی میں پیراشوٹر سمجھا جائے۔

 

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بعض اطلاعات کے مطابق حفیظ شیخ جن کا گیلانی سے بڑا ٹف مقابلہ ہے ان پر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ عامر لیاقت نے تو کھل کر سینٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا حفیظ شیخ میری جماعت کے نہیں۔ پہلے جماعت میں آئیں۔ حلف اٹھائیں اور کچھ ماہ پارٹی میں گزاریں پھر وہ میرے ووٹ کے حقدار ہو ںگے۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہدوسری طرف فیصل واوڈا کے بارے تو پتہ نہیں کتنی کہانیاں زبان زد عام ہیں ۔ کیونکہ بقول سلیم صافی نہ تو علی زیدی چاہتے ہیں نہ ہی گورنر عمران اسماعیل کے فیصل واڈا سینیٹر بنیں ۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ فیصل واوڈا کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جہاں پی ٹی آئی نے تنقید کے بعد بلوچستان سے سینٹ کے لیے امیدوار عبدالقادر سے ٹکٹ واپس لے کر ظہور آغا کو جاری کر دیا تھا ۔ پھر پتہ چلا کہ ظہور آغا کی بنی گالہ میں دھرنے پر شوکاز کے ساتھ بنیادی رکنیت معطل کی گئی تھی۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ پتہ نہیں یہ کیسے کر لیتے ہیں ۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہسیاست کے میدان میں جوڑ توڑ سب فطری عمل ہے لیکن موجودہ حکومت کی بے تدبیری اور مشیروں کی نالائقی کی بنا پر تحریک انصاف خود اپنے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔

 

 

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اسی لیے اپوزیشن گیلانی صاحب کی جیت کے بارے میں زرداری فارمولے کی وجہ سے مطمئن ہے ۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو پی ڈی ایم کے پہلے والے موقف سے دستبردار کروانے کے بدلے میں یقین دلایا گیا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں وہ کچھ نہیں ہوگا جو2018کے الیکشن میں یا پھر گلگت بلتستان کے الیکشن میں یا پھر چیرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے میں ہوا۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا میچ ہونے کی صورت میں صوبوں سے بھی پی ٹی آئی کو سرپرائزز مل سکتے ہیں اور اس صورت میں گیلانی صاحب کے چیرمین سینیٹ بننے کے چانسز بھی بڑھ سکتے ہیں۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے لئے یہ خبر اچھی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے غیر جانبدار رہنے کی یقین دہانی کرا دی ہے پر حکومت کے لئے یہ ایک بری خبر ہے کیونکہ اب کوئی ان کے لئے الہ دین کا چراغ لے کر نہیں کھڑا ہوگا۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو یقین ہے کہ معاملات تبدیل ہوچکے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ آئندہ الیکشن میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔ اس کی امید اب مسلم لیگ ن کو بھی ہوچکی ہے ۔

سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اسی لیے پی ٹی آئی بہت پریشان ہے اور اسے ڈر ہے کہ اس کے ووٹ ٹوٹ جائیں گے اور اب حکومت سپریم کورٹ سے امید لگائے بیٹھی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کی اجازت دی جائے۔ اوراس وقت یہ ہی پی ٹی آئی کے لیے آخری امید ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.