fbpx

عالمی طاقتیں افغانستان میں امن قائم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں :سینیٹررحمان ملک کا امریکی صدرکوخط

اسلام آباد:عالمی طاقتیں افغانستان میں امن قائم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں :سینیٹررحمان ملک کا امریکی صدرکوخط ،اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ و چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر) سینیٹر رحمان ملک نے امریکی صدر جو بائیڈن اور عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن لانے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

سینیٹررحمان ملک نے تجویز پیش کی کہ امریکی صدر افغانستان میں مزید خونریزی روکنے کے لئے باقاعدہ فوجیوں کے انخلا کے لئے ایک جامع حکمت عملی وضع کریں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک کھلے خط میں ، سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں افغانستان میں امن لانے کے ایک نقطہ پر اتفاق نہیں کرتی ہیں ، تو پھر وہ طالبان کو کابل کی طرف مارچ کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے اور ہر گزرنے والا دن طالبان مخالف حکومت اور افغانی عوام کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔

انہوں نے گزارش کی ہے کہ امریکی صدر افغانستان کے غم و درد کو خوشیوں میں تبدیل کرے اور آنے والی افغان نسل کو پرامن اور خوشحال زندگی کے لئے اپنا اہم کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ سفارت کار اور دیگر غیر ملکی آنے والے حالات کی خوف سے کابل چھوڑ دیں جوکہ انتہائی تشویشناک عمل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عملی طور پر انخلا کے لئے باقاعدہ جامع حکمت عملی کے بغیر ، پڑوسی ممالک میں افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوسکتی ہے اور اسطرح دنیا ’ظالمان‘ کے ایک نئے برانڈ کا مشاہدہ کریں گے جو دنیا میں ایک بڑی سطح پر پریشانی پیدا کر سکے گے۔

سابق وزیرِداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکہ سمیت عالمی قوتوں میں ایک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کرنے کے بجائے مختلف نظریات پائے جارہے ہیں حالانکہ ایک نکاتی ایجنڈہ افغانستان میں پائیدار امن کے سوا کچھ نہیں اور امن کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو دوسرے دوست ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں اقوام متحدہ امن افواج کی تعیناتی کے لئے ایک قرارداد لانا چاہئے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اور موجودہ افغان حکومت کو عوام کی خواہش کے مطابق پرامن حکومتی منتقلی اور تشکیل کے لئے ایک میز پر بیٹھنے پر مجبور کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا “میں تجویز کرتا ہوں کہ صدر جو بائیڈن افغانستان میں قیام امن کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی پہل کرے اور افغانستان کو مزید قتل و غارت گری سے بچائے۔

انھوں نے کہا کہ چین ، روس ، برطانیہ ، متحدہ عرب امارات ، پاکستان ، اور ایران 30 سالوں کی اس بیکار جنگ سے تھکے ہوئے افغانیوں کی خاطر اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

انہوں نے اظہار خیال کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان میں حقیقی امن لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پاکستان کے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ افغانستان میں امن لانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں اور اب تک ان کی انتھک مثبت کاوشیں ریکارڈ پر ہیں۔

سینیٹر رحمان ملک نے امریکی صدر پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ امن کے یک نکاتی ایجنڈے پر دیگر عالمی طاقتوں کو راضی کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.