ورلڈ ہیڈر ایڈ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور انسانی حقوق کا کشمیر کی صورتحال پر اجلاس طلب

سینیٹ کی دفاع اور انسانی حقوق کی کمیٹیوں نے کشمیر کے حوالہ سے اجلاس طلب کر لئے ہیں

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹئ برائے دفاع اور قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کشمیر کی صورتحال پر اجلاس طلب کر رہے ہیں، دونوں کمیٹیوں کے اجلاس 12 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوں گے. اجلاس میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا

قائمہ کمیٹی برائے دفاع مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی سے پیداشدہ صورتحال کا جائزہ لے گی اورایل او سی پر فائرنگ اور افغان سرحد پرموجودہ صورتحال پر بھی غور کرے گی۔ انسانی حقوق کمیٹی نے حکومت سے مقبوضہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے متعلق بریفنگ مانگ لی ہے۔ خارجہ اور انسانی حقوق کی وزارتیں قائمہ کمیٹی کومقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیں گی.

بھارتی مظالم کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہونےلگا ، مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 34 واں روز ہے، لوگوں کے رابطے معطل، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل جبری پابندیوں کے باوجود سری نگر اور دیگر شہروں میں احتجاج جاری ہے۔ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد کشمیری عوام حکام کی ان تمام کوششوں کی مزاحمت کر رہے ہیں جن کے ذریعے وہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وادی میں صورتحال معمول پر آ رہی ہے۔ وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس گئے۔

وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس، لینڈ لائن اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔ حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں کشمیری بدستور جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڑی تعداد میں کشمیریوں کو اتر پردیش، لکھنو کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سرینگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا کہ ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.