fbpx

سیرت النبی ﷺ کا پیغام | تحریر : عدنان یوسفزئی

انسانیت کو جو سب سے بڑا مسئلہ آج کے زمانے میں درپیش ہے وہ بدامنی اور غیر یقینیت کا ہے۔ 

آج کی سسکتی زندگی جو غیر یقینیت و بے چینی کی دلدل میں پھنس چکی ہے، کو ضرورت ہے کہ وہ رہنمائی کی روشنی کی طرف آجائے۔ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا انسانیت کے سامنے جو ایک حقیقی نظریہ پیش کیا وہ یقین دلاتا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک صرف یک تنها ایک اللہ ہے۔

خالق کائنات نے کائنات کو توازن اور ہم آہنگی کے ساتھ پیدا کیا ہے، تمام انسان حضرت آدم علیہ سلام کی اولاد ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنمایانہ اصول عدل و احسان، انصاف و مساوات اور برادری و اخوت پر مبنی ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ عالمگیر معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ عدل و انصاف کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے اور ہر انسان کو برابری کی سطح پر امن و سکون حاصل ہو۔

انسانی زندگی کو روز اول سے ہی مسائل سے واسطہ رہا ہے۔ ہر دور اور زمانے کے اپنے تقاضے رہے ہیں۔ ہم آج جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں اس میں بھی سابقہ  ادوار کی طرح ہمیں  مسائل زندگی اور مختلف معاملات کا سامنا ہے۔ اگر ایسا کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ پوری انسانیت بالعموم اور امت مسلمہ باالخصوص مسائل و تنازعات کے بھور میں پھنس چکی ہے۔ 

حضوراکرم ﷺ کے وہ کون سے دو امتی ہیں جن کے درمیان روز محشر اللہ تعالیٰ خود صلح کروائے گا؟

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا” میرے دو اْمتی اللہ تعالی کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں،اللہ پاک اس ظالم سےفرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو۔ظالم جواب دیتا ہے یا رب! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں۔تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے”۔یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے ۔ وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا، لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔اب اللہ پاک مظلوم سے فرمائے گا ۔نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ وہ سر اٹھائےگا , جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا: یا رب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں اور موتیوں کے بنے ہوئے ہیں. یا رب! کیا یہ کسی نبی ،کسی صدیق اور شہید کے ہیں؟

اللہ تعالی فرمائے گا! جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں۔وہ کہے گا! یا رب! بھلا اسکی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟اللہ تعالی فرمائے گا : تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔اب وہ عرض کریگا:یا رب کس طرح؟

اللہ ﷻ  ارشاد فرمائے گا اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے۔ وہ کہے گا یا رب! میں نے معاف کیا۔اللہ پاک فرمائے گا، اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاؤ۔اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالی سے ڈرو،آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مؤمنين کے درمیان میں صلح کرانے والا ہے۔(صحیح بخاری) 

انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی وقومی مسائل کے بوجھ تلے یہ دنیا دب چکی ہے۔ ہر آئے دن نئے مسائل و چلینجز نمودار ہوتے جارہے ہیں۔ جو ہمارے معاشرے کے لئے بہت خطرناک ثابت ہورہے ہیں ۔

اب ان مسائل اور چیلنجوں کو حل کرنے کی بات جب ہم بحیثیت مسلمان کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس کا بہترین حل موجود ہے، وہ یہ کہ ہم ان مسائل کو لیکر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک حیات طیبہ کی طرف رجوع کریں اور حضور اکرم صلی‌الله‌علیه‌وسلم کی تعلیمات اور عملی زندگی جو اسوہ حسنہ یعنی بہترین و کامل نمونہ زندگی ہے کو سامنے رکھ کر سر اٹھائے ہوئے ان مسائل کا حل دھونڈ نکالیے۔

آپ صلی‌الله‌علیه‌وسلم  کو کائنات اور پوری انسانیت کے لئے رہنما اور معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ مسائل کس  قدر بھی پیچیدہ ہوں، اللہ کے رسول صلی‌الله‌علیه‌وسلم کے اسوہ حسنہ اور تعلیمات میں لازمی طور ان کا بہترین  و کامل حل و جواب ملے گا۔

رسول اکرم صلی‌الله‌علیه‌وسلم کی تعلیمات سے ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ عالمگیر معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ عدل و انصاف کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے اور ہر انسان کو برابری کی سطح پر امن و سکون حاصل ہو۔ 

اگر معاشرہ میں امن و امان سب کے لئے یکساں نہیں ہے، کچھ انسان امن میں ہوں اور کچھ مسلسل بدامنی کے شکار ہوں تو عالمگیر امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ عالمگیر امن، بھائی چارے، مساوات اور ہم آہنگی کے لئے واحد عملی نمونہ اسلام کا آفاقی پیغام اور پیغمبر اسلام صلی‌الله‌علیه‌وسلم کی سیرت طیبہ مبارکہ ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ہر معاملے میں اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی سامنے رکھیں۔

Twitter | @AdnaniYousafzai