fbpx

سروس کمیشن کے تحت امتحانات، انٹرویوز، اشتہارات کے اجرا پر پابندی عائد

سندھ ہائیکورٹ سرکٹ بنچ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کو کام سے روک دیا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن امتحانات میں رشوت کے عوض نتائج کی مبینہ تبدیلی کے کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس ذوالفقار خان، جسٹس سلیم جیسر پر مشتمل بنچ نے کی،عدالت نے سروس کمیشن کے تحت امتحانات، انٹرویوز، اشتہارات کے اجرا پر پابندی عائد کردی۔عدالت نے چیئرمین سروس کمیشن کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سے متعلق بھی آگاہی نہیں، امتحانات کے انعقاد، امتحانی نتائج کے اجرا کے طریقہ کار کی آگاہی ہی نہیں ہے۔جج نے چیئرمین کمیشن سے استفسار کیا کہ کمیشن امتحانات کے نتائج پبلک کیوں نہیں کیے جاتے؟ خواہ کسی امیدوار کی صفر مارکس ہوں لیکن نتائج تو سامنے آنے چاہئیں۔چیئرمین کمیشن نے کہا کہ ہم امیدوار کو کاربن کاپی دیتے ہیں وہ خود مارکس کی نشاندہی کرتے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ طریقہ کار اور پالیسی کس نے بنائی؟ کمیشن امتحانات میں شفافیت کا طریقہ بنا کر عدالت میں پیش کریں۔جسٹس ذوالفقار خان نے ریمارکس دئیے کہ مستقبل کے معماروں کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے۔کمیشن حکام نے عدالت سے دو ماہ کی مہلت طلب کی جس پر عدالت نے کمیشن حکام کو دو ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کیس ملتوی کردیا۔علاوہ ازیں عدالت کی جانب سے چیئرمین کمیشن نور محمد جادمانی کے وارنٹ اور سیکریٹری عطا اللہ کی معطلی ختم کردی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.