لاہور سیشن کورٹ نےعلی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی

لاہور کی سیشن کورٹ نے میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کی کارروائی روکنے سے متعلق درخواست دائر کرنے کے باعث پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

باغی ٹی وی :اطلاعات کے مطابق ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے میشا شفیع کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ سیشن کورٹ کی جانب سے فوج داری مقدمے کا ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے سے متعلق درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر انہوں نے اب لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کی جائے انہوں نے کہا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ مقدمے پر کارروائی نہیں روکتی تو گلوکارہ اپنے گواہان پیش کردیں گی۔

جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ یاسر حیات نے مقدمے کی سماعت 7 نومبر تک ملتوی کردی اور اگلی سماعت میں گواہان پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے 28 ستمبر کو پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار و اداکار علی ظفر کےخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے الزام میں 9 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی-

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 20 (1) اور پاکستان پینل کوڈ کے آر/ڈبلیو 109 کے تحت 9 افراد میں میشا شفیع ، عفت عمر ،لینہ غنی،حسیم الزمان ، عفت عمر، حمنہ رضا، ماہم جاوید، علی گل پیر، فریحہ ایوب اور سید فیضان رضا شامل ہیں-

ان تمام شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک منصوبے کے تحت علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر الزامات لگائے لگا کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا اور ابھی اسی سائبر کرائم کا فیصلہ ہونا بھی باقی ہے-

ہ میشا شفیع نے 10 اکتوبر کو لاہور کی سیشن کورٹ میں اپنے خلاف چلنے والے ہتک عزت کے مقدمے کی کارروائی کو فی الحال روکنے یا ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

گلوکارہ نے اپنے وکلا کے ذریعے دائر درخواست میں عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے اور ان کے گواہوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں سائبر کرائم کا ایک کرمنل مقدمہ دائر ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کے گواہ خوف زدہ ہوگئے ہیں اس لیے ہتک عزت کی سماعت فی الحال ملتوی کی جائے۔

عدالت نے میشا شفیع کی درخواست پر مختصر سماعت کے بعد علی ظفر سے 13 اکتوبر تک جواب طلب کیا تھا۔

علی ظفر نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایا تھا کہ میشا شفیع کے ان گواہوں کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ دائر ہوا جو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے تھے اور اس کیس کو بہانا بنا کر ہتک عزت کے کیس کی سماعت ملتوی نہیں کی جا سکتی۔

بعدازاں 19 اکتوبر کو درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یاسر حیات نے ریمارکس دیے کہ اعلیٰ عدالتوں نے بار بار طے شدہ قانون کا حوالہ دیا تھا کہ ایک معاملے پر سول اور فوجداری مقدمات میں بیک وقت کارروائی سے متعلق کوئی اعتراض نہیں ہے۔

میشا شفیع کی جانب سے کی گئی علی ظفرکے خلاف ایک درخواست مسترد ہوگئی تھی عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی تھی-

لاہور کی سیشن عدالت کے جج یاسرعلی نے میشا شفیع کی درخواست پر سماعت کی تھی ایڈیشنل سیشن جج نے میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے گواہوں کو 27 اکتوبر کو طلب کر لیا تھا-

جس کے بعد گلوکارہ نے اپنے وکیل ثاقب جیلانی کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے مقدمے کا فیصلہ ہونے تک ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔

میشا شفیع نے علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے پر کارروائی روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

علی ظفر کےخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے الزام میں میشا شفیع اور عفت عمر سمیت 9 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج

علی ظفر نے صارفین سے آن لائن سوشل میڈیا عدالتوں کے بارے میں رائے مانگ لی

لاہور کی سیشن عدالت نے میشا شفیع اور ان کے گواہوں طلب کر لیا

گلوکارہ میشا شفیع سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے والے ایف آئی اے افسر کومعطل…

علی ظفر کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کے مقدمے میں اداکارہ عفت عمر نے عبوری ضمانت…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.