fbpx

قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا،شہباز گل کیس کا تحریری فیصلہ

سیشن کورٹ اسلام آباد بغاو ت مقدمے میں شہبازگل کی ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا .فیصلے میں کہا گیاکہ ملزم شہباز گل پارٹی لیڈر ہیں اور متنازعہ بیان کسی اندرونی اجلاس میں نہیں دیا، شہباز گل کا بیان قابل احترام ادارے پاک فوج میں نظم و ضبط خراب کرنے کے لیے کافی ہے،شہباز گل کا بیان عوامی مفاد میں ہے نہ ہی ملکی سالمیت کے حق میں،قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا، بادی النظر میں شہباز گل ناقابل ضمانت جرم کرنے کے مرتکب ہوئے، ریکارڈ پر شہباز گل کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں،

اداروں کے خلاف بیان دینے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گِل کی ضمانت مسترد کردی گئی۔

اسلام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ظفر اقبال نے بغاوت کے مقدمے میں نامزد شہباز گِل کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے گزشتہ روز درخواست پر فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل پر اداروں میں بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے جبکہ وہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

ایڈیشنل سیشن کورٹ کے جج نے 11 بجے محفوظ فیصلہ سنایا ہے، عدالت نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاک آرمی کے افسران کیخلاف منظم طریقے سے ملزم نے بات کی اور ان کے الفاظ میں پاک فوج کے خلاف بغاوت کے لیے اکسایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے پاک فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی جس سے سپاہی سے لیکر بریگیڈئیر رینک تک افسران کے جذبات مجروح ہوئے، بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرنا بھی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ شہباز گل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو شہباز گل معافی مانگنے کیلیے تیار ہیں۔

شہباز گل کے وکیل نے عدالت میں بغاوت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔ ان کے انٹرویو کے ٹرانسکرپٹ کے مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟شہباز گل پڑھا لکھا شخص ہے۔ انہوں نے فوج کو ہمارے سر کا تاج کہا ہے۔

وکیل نے شہباز گل کا آفیشل ٹوئیٹر عدالت کو دکھایا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز گل نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کسی بھی جھوٹی خبر پر یقین نہ کریں۔ٹوئیٹس سے واضح ہے کہ انہوں نے فوج کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا.

کمرہ عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے متنازع بیان اور اینکر کے سوال کی ویڈیو بھی چلائی گئی تھی۔