fbpx

شہباز گل پر تشدد کیخلاف نئی درخواست دائر

سابق معاون خصوصی شہباز گل پر تشدد کیخلاف نئی درخواست دائر کردی گئی ہے.

درخواست اسد عمر اور بابر اعوان نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ شہباز گل کو گرفتار کرتے وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انہیں تھانے کے بجائے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا. شہباز گل پر دوران حراست بدترین تشدد کیا گیا، عدالت کے سامنے پیشی پر شہباز گل نے تشدد کے نشانات بھی دکھائے تھے.

آئین کے آرٹیکل 14 دو کے تحت کسی پر بھی شواہد حاصل کرنے کے لیے تشدد کرنے کی اجازت نہیں، درخواست

درخواست میں استدعا کی گئ کہ عدالت آئی جی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ اور ایس ایچ او کوہسار کو شہباز گل کی حفاظت یقینی بنانے کے احکامات جاری کرے، درخواست میں شہباز گل کے طبی معائنہ کے لیے غیر جانبدار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی کی بھی استدعا کی گئی.

درخواست میں‌ مزید استدعا کی گئی کہ پولیس کو شہباز گل پر پریشر ڈال کر اعترافی بیان لینے سے روکا جائے، شہباز گل کی تشدد کے بعد جسمانی اور دماغی حالت بہتر نہیں جو اسکی زندگی کے لیے خطرہ ہے، شہباز گل کو حراست میں رکھنے کا مقصد صرف جسمانی تشدد کرنا مقصود یے، عدالت شہباز گل کے جسمانی تشدد سے روکنے کا حکم جاری کرے.

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے منگل کے روز 9 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گِل کو مبینہ بغاوت پر اُکسانے کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

شہباز گِل نے پیر کی شام 8 اگست کو نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کے ایک پروگرام میں متنازع گفتگو کی تھی جس کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ دوسری جانب یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد پیمرا نے چینل کی نشریات معطل کر دی تھی اور ٹی وی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

سرکار کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اپنے بیان کے ذریعے شہباز گل نے ملک میں انتشار پھیلانے، فوج کو تقسیم کرنے، فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینے، فوج کے خلاف عوام کو نفرت پر اکسانے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔