fbpx

شہباز گل کیس: عدالت نے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کردی

ایڈیشنل سیشن کورٹ نے اسلام آباد پولیس ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت دو بجے تک ملتوی کردی ہے.

اس سے قبل ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت نے پی ٹی آئی کے گرفتار رہنما شہباز گِل کی درخواستِ ضمانت پر سماعت 11 بجے تک ملتوی کر دی تھی، ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہباز گِل کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے 11 بجے فریقین کو دلائل دینے کی ہدایت کی تجی، دورانِ سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے کیس التواء میں رکھنے کی استدعا کی گئی۔

شہباز گِل کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا تھا کہ ہم تیار ہیں، آپ آج ہی دلائل سن کر درخواست پر فیصلہ کر دیں، ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے کہا کہ اسی طرح کا معاملہ ہائی کورٹ میں بھی زیرِ التواء ہے۔ وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر سے متعلق درخواست زیرِ التواء ہے، ہائی کورٹ میں کیس دائر ہونے کے باوجود عدالت سن سکتی ہے، طے شدہ قانون ہے کہ ایک منٹ کسی کو بغیر وجہ جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، حکومت جان بوجھ کر اس معاملے کو لٹکانا چاہ رہی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر 11 بجے ریکارڈ سمیت پیش ہوں، آپ وکالت نامہ بھی جمع کرائیں، 11 بجے بحث بھی کریں، اس کے ساتھ ہی سماعت 11 بجے تک ملتوی کردی گئی، اب وکیل 11 بجے دلائل دیں گے۔

دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے اسلام آباد عدالت میں پیش ہوکر شہباز گل کیس میں فزیکل ریمانڈ کی درخواست کی جس پر عدالت نے انہیں کہا کہ آپ مزید ریمانڈ مانگ کر کیا کرنا چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ آپ کی ایک نظرثانی اپیل خارج ہوئی دوسرا فزیکل ریمانڈ ختم ہو چکا تاہم عدالت نے شہباز گل کو اس حوالے سے نوٹس بھیجتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی ہے.

ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے عدالت موقف اختیار کیا کہ: تحریک انصاف کے رہنماء شہباز گل نے ٹی وی پر بیان دیا جس سے اداروں کو ٹارگٹ کیا گیا، اس پر حکومت نے ان کے فوج مخالف بیان کو سنجیدہ لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا تاہم اس دوران کییس کا تفتیشی افسر بھی عدالت میں پیش ہوگیا اور انہوں نے بھی اپنی تفتیش بارے عدالت کو آگاہ کیا جبکہ وکیل راجہ رضوان عباسی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے.اور وکیل رضوان عباسی کی جانب سے کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پڑھ کر سنائے گئے.

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی جبکہ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا: آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ملزم کا مزید فزیکل ریمانڈ ضروری ہے ؟ علاوہ ازیں عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے مزید فزیکل ریمانڈ میں کیا کرنا ہے ؟ قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کا استفسار سیشن کورٹ میں کتنا ریمانڈ ہوا ؟ ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے بتایا: شہباز گل کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا گیا جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیشن جج نے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلوں کے خلاف درخواست دائر کی گئی.

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر شہباز گل کو نوٹس جاری کردیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے.

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں شہبازگل نے بغاوت کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جبکہ اس سے قبل عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی دوسری استدعا مسترد کردی کرتے ہوئے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل پنڈی بھیج دیا تھا. تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ فوج کے اندر مختلف رینکس کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی اور ملزم چونکہ ہائی پروفائل ہے لہذا ہم نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے.

شہباز گل کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے آڈیو پروگرام کی سی ڈی حاصل کر لی ہے اور وہ میچ بھی کر گئی ہے ، ایک موبائل ان کی گاڑی میں رہ گیا تھا دوسرا ان کے پاس تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا تھا کہ ملزم موبائل اور لیپ ٹاپ تک رسائی نہیں دے رہا ہے، جبکہ سچ اور جھوٹ جاننے کے لیے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے جوکہ انتہائی ضروری ہے.انہوں نے مزید کہا کہ: ٹرانسکرپٹ پڑھا گیا، لیکن ملزم یہ نہیں بتا رہا کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ لہذا میں استدعا کرتا ہوں کہ پولیس کو مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے لیکن عدالت نے یہ استدعا مسترد کردی تھی.