fbpx

شاداب خان اوروہاب ریاض ؛ایچ بی ایل پی ایس ایل کی دو سب سے کامیاب ٹیموں کے کپتان

شاداب خان اوروہاب ریاض ؛ایچ بی ایل پی ایس ایل کی دو سب سے کامیاب ٹیموں کے کپتان

• ایونٹ کی آن لائن ٹکٹ کرکٹ ڈاٹ بک می ڈاٹ پی کے اورایم اینڈ پی اسٹورز سے خریدی جاسکتی ہیں
• ایونٹ کا درست نام "ایچ بی ایل پی ایس ایل” ہے۔ تمام میڈیا ہاؤسز سےدرخواست ہے کہ وہ اپنے نیوز بلیٹنز، ہیڈ لائنز اور تحریروں میں ایونٹ کا درست اور مکمل نام استعمال کریں

اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی سال 2016 سے جاری ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کی دو سب سے کامیاب ٹیمیں ہیں۔یہ دونوں ٹیمیں لیگ کے پہلے دونوں ایڈیشنز کی فاتح سائیڈز بھی ہیں۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 2016 کا ٹائٹل جیتا جبکہ پشاور زلمی ایڈیشن 2017 کی فاتح ٹیم ہے۔

دو مرتبہ کی ایچ بی ایل پی ایس ایل چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کا لیگ میں جیت کا تناسب چھپن اعشاریہ ایک چھ فیصد ہے۔ چار مرتبہ ایونٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی پشاور زلمی کی ٹیم کا جیت کا تناسب پچپن اعشاریہ صفر سات ہے۔

شاداب خان ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے نوجوان کپتان ہیں۔ انہیں 2020 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم نے 23 میچز کھیلے اور 12 جیتے۔وہاب ریاض نے 18 میچز میں پشاور زلمی کی قیادت کرتے ہوئے 9 میں فتوحات حاصل کیں۔

لیگ اسپنر شاداب خان نے 2017 میں اپنا ایچ بی ایل پی ایس ایل ڈیبیو کیا ۔وہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں مڈل اوورز کے عمدہ باؤلر ہیں۔ وہ اننگز کے 7 سے 16 اوورز میں اب تک 41 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ جو اس ٹورنامنٹ میں ان اوورز میں کسی بھی کھلاڑی کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔وہ اب تک تین نصف سنچریوں کی مدد سے لیگ میں 532 رنز بھی بناچکے ہیں۔

دوسری طرف وہاب ریاض اب تک ایچ بی ایل پی ایس ایل میں 94وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ ان میں سے 44 وکٹیں انہوں نے اننگز کے اختتامی 4 اوورز میں حاصل کی ہیں۔

دونوں ٹیمیں 30 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور 17 فروری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں مدمقابل آئیں گی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا ان کی زندگی میں ایک خاص مقام ہے۔ اس ٹورنامنٹ اور فرنچائز کا ان کی ترقی میں اہم کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے ۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں ڈیبیوسےلے کر اب تک اسلام آباد یونائیٹڈ نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔

شاداب خان نے کہا کہ پشاور زلمی کا شمار ایچ بی ایل پی ایس ایل کی سب سے مشکل ٹیموں میں ہوتا ہے، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے میچز ہمیشہ سنسنی سے بھرپور رہتے ہیں۔

پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل ہمارے ملک کا ایک ایسا برانڈ ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پذیرائی کا سبب بن رہا ہے ، معیاری کرکٹ اور نوجوانوں کو مواقع دینا اس کی پہچان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پشاور زلمی کے اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں نے تقریباََ ہر ایڈیشن میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔

وہاب ریاض نے کہا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ ہمیشہ بہترین رہتا ہے ۔ شائقین کرکٹ بھی اس میچ میں خوب دلچسپی لیتے ہیں، امید ہے کہ تمام کرکٹ فینز 27 جنوری سے شروع ہونے والے اس ایونٹ میں بہترین مقابلوں سے محظوظ ہوں گے۔

اسکواڈز:
پشاور زلمی:
وہاب ریاض (کپتان)، حضرت اللہ ززازئی، لیام لیونگ اسٹون/میتھیو پارکنسن، حیدر علی، شیرفین ردرفورڈ، شعیب ملک، عثمان قادر، حسین طلعت، ثاقب محمود/پیٹ براؤن، سلمان ارشاد، ارشد اقبال، کامران اکمل، ثمین گل،کوہلر کیڈمور، سراج الدین، آرش علی خان ، بین کٹنگ، محمد حارث، محمد عمر، سہیل خان
اسلام آباد یونائیٹڈ:
شاداب خان(کپتان)، کولن منرو، حسن علی، آصف علی، مارچنٹ ڈی لانگے، فہیم اشرف، اعظم خان، ایلکس ہیلز، محمد وسیم جونیئر، محمد اخلاق، ریس ٹوپلے، دانش عزیز، ظفر گوہر، پاؤل اسٹرلنگ، مبصر خان، ذیشان ضمیر/محمد حریرہ، رحمان اللہ گورباز، اطہر محمود، موسیٰ خان، ظاہر خان

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 7 کے لیے 19 ریزرو کھلاڑیوں کے پول کا اعلان کردیا ہے۔ایونٹ 27 جنوری سے 27 فروری تک نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

ان 19 میں سے 15 کھلاڑی21 جنوری کو ٹیم ہوٹل پہنچیں گے، جہاں وہ پی سی بی کی طرف سے قائم کیے گئے ایونٹ منیجمنٹ انیورینمنٹ میں قیام کریں گے۔باقی چار کھلاڑی ایونٹ منیجمنٹ اینورینمنٹ کا حصہ تو نہیں ہوں گے تاہم انہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں طلب کیا جاسکے گا۔

ریزرو پول میں شامل 15 کھلاڑی:
عامر جمال (ناردرن)، ابرار احمد (سندھ)، عماد بٹ (بلوچستان)، عماد عالم (سندھ)، بسم اللہ خان (بلوچستان)، حسان خان (سدرن پنجاب)، خالد عثمان (خیبرپختونخوا)، مصدق احمد (خیبر پختونخوا)، ناصر نواز (ناردرن)، سلمان علی آغا (سدرن پنجاب)، طیب طاہر (سدرن پنجاب)، عمر امین (ناردرن)، عمر صدیق (سدرن پنجاب)، عثمان شنواری (ناردرن) اور وقاص مقصود (سینٹرل پنجاب)

باقی چار کھلاڑی: امام الحق (بلوچستان)، عمیر بن یوسف (سندھ)، سعود شکیل (سندھ) اور زاہد محمود (سندھ)

کھلاڑیوں کی ابتدائی فہرست فرنچائزز نے تیار کی، بعدازاں جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف سلیکٹر محمد وسیم نے آسٹریلیا سیریز میں شامل قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے ممکنہ کھلاڑیوں کی جگہ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کیا۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے ممکنہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ آئندہ ہفتے سے شروع ہوگا۔

تمام ٹیموں کو میڈیکل بنیادوں پر ریزرو پول میں شامل کھلاڑیوں کو اسکواڈمیں شامل کرنے کی اجازت ہوگی تاہم اس کے لیے انہیں ٹیکنکل کمیٹی کی منظوری درکار ہوگی۔