fbpx

شادمان ٹاؤن میں خاتون کی خودکشی کے واقعے میں نیا موڑ سامنے آگیا

کراچی شادمان ٹاؤن خاتون نے خودکشی کی اور ابتدائی طور پر وجہ شوہر کی بیر وزگاری اور مالی تنگدستی بتائی گئی تھی تاہم خودکشی کرنے والی خاتون کا وائس میسج سامنے آنے پر شارع نور جہاں پولیس نے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ۔
شادمان ٹاؤن ٹی اینڈ فلیٹس میں خودکشی کرنے والی خاتون 36 سالہ ثوبیہ زوجہ سلیم نے اپنی سہیلی کو روتے ہوئے میسج میں بتایا کہ میں ’’ اپنی عزت کی خاطر خاموش رہی کہ میرے جوان بچے ہیں ان کے کانوں تک بات جائیگی تو کیا سوچیں گے ، میرے ساتھ جو ہوا میں سوچ بھی نہیں سکتی ، میں نے پوری رات جاگ کر گزاری ہے ، مجھے کالز کی جا رہی ہیں کہ ہم سے آکر ملو ، ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے ، میرے پیچھے پڑ گئے ہیں ، ہراساں کیا جا رہا ہے نجانے کہاں سے میری ویڈیو نکال کر لائے ہیں اتنا میں برداشت نہیں کر سکتی ، میرے لیے دعا کرنا ، مجھے معاف کر دینا اب جو میں قدم اٹھانے جا رہی ہوں وہ میری زندگی کا اینڈ ہے ختم ہے ‘‘۔
خودکشی کرنے والی ثوبیہ کا وائس میسج منظر عام پر آنے کے بعد ایس ایچ او شارع نور جہاں انسپکٹر لیاقت حیات سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ پولیس نے متوفیہ کے بھائی وسیم کی مدعیت میں نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جو کہ ٹی اینڈ ٹی فلیٹس کے ہی رہائشی ہیں۔ متوفیہ کا وائس میسج اس کی سہیلی نے بدھ کو جس دن ثوبیہ نے خودکشی کی تھی دیا تھا اور یہ بات پورے فلیٹ میں گردش کر گئی کہ ثوبیہ نے کچھ لوگوں کے نام لیے ہیں جس پر انھیں بھاگنے کا موقع مل گیا جبکہ پولیس کو وائس میسج جمعرات کی شام کو دیا گیا اگر متوفیہ کے اہلخانہ اسی دن پولیس کو اعتماد میں لیکر وائس میسج فراہم کر دیتے تو ملزمان آج قانون کی گرفت میں ہوتے۔ تاہم وہ ملزمان کے تعاقب میں ہیں جو مسلسل اپنا مقام تبدیل کر رہے ہیں اور شبہ ہے کہ کہیں وہ شہر سے باہر نہ نکل جائیں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ایک ملزم شادی شدہ اور بچوں والا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.