fbpx

"صحافت اور پاکستانیت تحریر:ملک شوکت محمود

آج کے دور میں صحافت کی اہمیت وضرورت نے ہمارے انداز فکراور جذباتی ردعمل کو بےحد متاثر کیا ہے۔کیونکہ دور حاضر کی صحافت ایک ایسا تعمیری اور تخریبی ہتھیار ہے جس سے دونوں کام بآسانی کئیے جاسکتے ہیں،گویا یہ دو دھاری تلوار ہے اسلئیے اسے بڑے احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے،ذرا سی لاپرواہی اور بے احتیاطی سے عوام الناس پربہت مضر اثرات اور خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے صحافت کی بڑی نازک اور اہم ذمہ داریاں ہیں۔
اسکے اچھے برے اثرات نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر آج کے برق رفتار وسائل اور ذرائع مواصلات وابلاغ عامہ کی وجہ سے چند لمحات میں یہ اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پوری عالمی برادری اور ساری عالمی سیاست اس سے متأثر ہو سکتی ہے،اسلئیے ایک صحافی اور کالم نگار،اداریہ نگار اصلاح احوال اور تعمیر و ترقی کے علاوہ امن قائم کرنے کا کردار ادا کرے تو یہ اخبارات، میڈیا ہاؤسز اپنی سوسائٹی اور ملک و قوم کی بے مثال خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔
صحافت معاشرے کے ناسوروں کا آپریشن کر کے اصلاح و ترقی فلاح وبہبود کا کام کافی مؤثر طریقے سے کر سکتی ہے،علمی ادبی اور تاریخی ،معاشرتی،معاشی اور سائنسی معلومات بہم پہنچا کر لوگوں کو ذہنی طور پر باخبر اور با اخلاق بنا سکتی ہے۔عوام الناس کو با شعور اور تعلیم دینے کا یہ بھی ایک منفرد اور مؤثر انداز ہے۔
صحافت کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اسکے اثر و نفوذ کی تیزی کی وجہ سے پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ملک کی فلاح و بہبود اور ملت کی عزت و آبرو کے تحفظ کیلئیے ہی اس دو دھاری تلوار کو استعمال کرنا چاہئیے۔صحافت عریانی،فحاشی اور بلیک میلنگ سے پاک و صاف ہونی چاہئیے۔جیسے تحریک پاکستان میں مسلم صحافت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور تحریک پاکستان کی وکالت کرنے میں بڑی مدد دی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صحافت میں آج بھی حق گوئی اور بے باکی اور کلمہ حق کو ادا کرنے کا اثر و نفوذ موجود ہے،تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس ذمہ دارانہ اور ایک قومی تعمیر خدمت کو بدنام کرنے میں ایک گھناؤنا کردار ادا کر کے صحافت جیسے پیشے کو پیسے کی خاطر رسوا کر رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے اغراض و مقاصد اور ادنی ادنی سے ذاتی مفادات کیلئیے اس پیشے کے چہرہ پر بدنما داغ ہیں۔
صحافت کا کردار کیمرے کا نہیں ہے کہ جو کچھ دیکھا من و عن بیان کردیا،صحافت تو قیادت کی شریک ہے،اس نے قوم کی رہنمائی کرنی ہے نہ کہ بھیڑ چال کے پیچھے لگنا ہے۔
صحافی کو حالات و واقعات کا تجزیہ کر کےاظہار خیال کرنا چاہئیے،بے بنیاد اور بے سروپا اور من گھڑت خبریں گھڑ کر عوام الناس کو گمراہ کرکے خوف وہراس نہیں پھیلانا چاہئیے،محض اپنی اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئیے سنسنی خیزی پھیلانا یہ صحافت کا کام نہیں۔
@OPF_99