وزیر خارجہ کا ازبک ہم منصب کوفون، بھارت کی جانب سے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا ‏ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک رابطہ۔ دونوں راہنماوں کے درمیان اہم معاملات خصوصاکرونا عالمی وبائی صورتحال ،دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ گہرے برادرانہ مراسم ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کیلئے پر عزم ہے۔ وزیر خارجہ نے کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے موثر اقدامات سے ازبک ہم منصب کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عالمی وبا کے دوران، تاشقند سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کیلئے خصوصی معاونت پر ازبک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ سیاسی مشاورتی اجلاس،وبائی صورت حال معمول پر آنے کے بعد جلد اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔ وزیر خارجہ نے اپنے ازبک ہم منصب کو بھارت کی جانب سے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مظلوم، نہتے کشمیری گذشتہ سال 5اگست سے بدترین بھارتی کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کا اغواء، ماورائے عدالت قتل، اور بلاجواز گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں۔ بھارت ڈومیسائل قواعد میں تبدیلی کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے درپے ہے جو سیکورٹی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور 4th جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، اقلیتوں بالخصوص ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو، کرونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیکر ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک روا رکھے ہوئے ہے عالمی برادری کو بھارت کے اس ہتک آمیز رویے کی پھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں نہتے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ بھارت کی نفرت پر مبنی پالیسیاں، نہ صرف خطے کیلئے بلکہ عالمی امن کیلئے خطرات کا باعث ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، مشترکہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے افغان امن عمل میں اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ قطر میں عنقریب شروع ہونیوالے بین الافغان مذاکرات سے افغانستان میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو گی۔

اس موقعہ پر دونوں وزرائے خارجہ کا دوطرفہ تعاون کے فروغ اور علاقائی امن و استحکام کیلئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہو جب کہ ازبک وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو دورہ ء ازبکستان کی دعوت دی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے، ازبک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حالات معمول پر آنے کے بعد جلد دورہ ازبکستان کا عندیہ دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.