fbpx

حمزہ اورشہبازشریف کی پھرضمانت:غریبوں کومنہ چڑاتے ہوئےبلٹ پروف گاڑیوں میں فاتحانہ اندازمیں چلےگئے

لاہور:عدالت کا فیصلہ،غریب کےمنہ پرطمانچہ:شہبازشریف اورحمزہ شہبازکی پھرضمانت:طاقتورمنہ چڑاتے ہوئے بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کرنکل گئے،اطلاعات کے مطابق آج ایک بار پھرپاکستان کے عدالتی نطآم نے اس ملک کے غریب کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے ، ویسے تو اس ملک کے طاقتور کےلیے الگ قانون ہے اور غریب کےلیے الگ ،لیکن عوام الناس اس وقت اس وجہ سے پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے نعرے کہاں گئے جو وہ کہتے تھے کہ دو نہیں ایک پاکستان

اس حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عدالت نے اس ملک کے طاقتور خاندان کے دو افراد کو ایک بڑے مقدمے میں ایک بار پھرضمانت دے دی ہے ، یہ کیس اس قدرمضبوط ہے کہ سنیئر قانون دان بھی ضمانت پرحیران رہ گئے ،

یہ ضمانت پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں‌کے سربراہ میاں شہبازشریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی ہوئی ہے، اس ضمانت کی خبر نے جیلوں میں سالوں سے قید ان غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے جو معمولی معمولی جرم کی پاداش میں لمبی لمبی قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر جب سابق حکمران خاندان کے ان دوصاحبان کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا توغریب عدالت کے اس فیصلے پرہکے بکےرہ گئے اور تجسس بھری نظروں سے میاں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو جاتے دیکھ کرافسوس کرتے رہ گئے جبکہ طاقتور منہ چڑاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں سرخرو ہوکرچلے گئے

میڈیا اطلاعات کے مطابق سپیشل کورٹ سینٹرل نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ مقدمے میں عبوری ضمانت منظور کر لی ۔

یاد رہےکہ آج صبح پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ مقدمے میں درخواست ضمانت دائر کر دی۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں درخواست ضمانت دائر کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے ان کے خلاف شوگر کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کا بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے، خدشہ ہے کہ ایف آئی اے حکام کیس میں انہیں گرفتار کر لیں گے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت عبوری ضمانت منظور کر کے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکے۔اسپیشل سینٹرل کورٹ نے عبوری ضمانت دینے سے قبل شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بنکنگ جرائم کورٹ سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کا حکم دے دیا۔

فاضل جج نے کہا کہ بنکنگ جرائم کورٹ میں دونوں ملزمان کی ضمانتیں زیر سماعت ہیں، قانون اجازت نہیں دیتا کہ ایک مقدمے کی دو مختلف عدالتوں میں ضمانتیں بیک وقت سنی جائیں، بنکنگ جرائم کورٹ کا آرڈر لیکر آئیں پھر میری عدالت ضمانت دے گی۔