fbpx

شہداء کے لہو کا فیضان پاکستان تحریر :صائمہ ستار

"شہیدوں کا لہو وہ آسماں ہے جس کے سائے میں سنور جاتی ہیں تاریخیں، نکھر جاتی ہیں تہذیبیں”

دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے, نئی سلطنتوں نے جنم لیا سب کی بنیادیں گمنام مجاہدین کے خون سے سینچیں گئیں. برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کی شمع شہداء کے مبارک خون سے روشن ہوئ جسکی روشنی سے نئی نسلوں نے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطا "پاکستان” کو حاصل کیا.آزادی سے عظیم اور بیش قیمت نعمت بے شک کوئ نہیں ہوتی. برصغیر میں غلامی و محکومی کی 100 سالہ تاریک رات کی روشن صبح انتھک مجاہدین کے اپنی لازوال قربانیوں سے دیکھی.
ہجرت کا سفر لہو لہو تھا.اس عظیم آزادی کی قیمت مسلمانوں نے اپنے خون سے اد کی تھی.آزادی کی جدوجہد اور ہجرت کے اس سفر میں لاکھوں گمنام شہداء کے اپنی قربانیوں سے وطنِ عزیز کی بنیاد رکھی.اس وطن کی مبارک خاک کو پانے کے لیے ہزاروں روشن چہرے سپردِ خاک ہوئے. لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پورے پورے خاندان کو لٹتے دیکھا.پاکدامن ماوؤں,بہنوں نے عصمت کی حفاظت کی خاطر کنوؤں اور نہروں میں چھلانگیں لگا کر جانیں قربان کیں. مسلمانوں کے شہروں کے شہر ، قصبوں کے قصبے ، گاؤں کے گاؤں مٹادیے گئے.کلکتہ کے فسادات میں اسقدر مسلمانوں کا خون بہا کہ مردہ خانوں میں جگہ نہ بچی.سڑی ہوئ لاشوں کی بو اسقدر تھی کہ سانس لینے کا مصنوعی آلہ استعمال کرے بغیر مردہ خانے میں سانس لینا محال تھا. صوبہ بہار میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں تیس ہزار سے زیادہ مسلمان شہید اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسلمان بے گھر ہوئے. مساجد اور مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ممسار کیا گیا.لندن ٹائمز کے نامہ نگار آئین مور لسین کی ایک رپورٹ جو اس نے 24اگست 1947کوجالندھر سے روانہ کی جس میں لکھا مشرقی پنجاب میں ہونے والا قتلِ عام جنگِ عظیم کی تمام تر ہولناکیوں سے بڑھ کر ہے.وحشت کا عالم یہ تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور پہنچنے والی ایک مال گاڑی سے عورتوں اور بچوں کے کٹے سر اور دیگر اعضاء کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا اور مال گاڑی کے باہر لکھا گیا تھا کہ یہ مسلمانوں کے لیے عید کا تحفہ ہے. ٹرینوں پر بم حملے کیےگئے اور بعض ایسی ٹرینیں تھیں کہ ان سے خون اور لاشوں کہ علاوہ کچھ برآمد نہ ہو سکا.قیامِ پاکستان کے سلسلے میں ہجرت تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی جس میں 10 سے 15 لاکھ مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا.غرض یہ کہ مظالم,شہادتیں اور قربانیاں اسقدر ہیں جنکا احاطہ کرنا مشکل ہے. قابلِ غور امر یہ ہے مسلمانوں نے یہ تمام قربانیاں جس عظیم مقصد کے لیے دیں کیا ہم اس مقصد کی پاسبانی کرنے میں کامیاب ہوئے؟ جس دو قومی نظریے کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے,اسلامی اقدار کے مکمل نفاذ کے لیے,پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لیے عظیم قائد محمد علی جناح نے یہ لازوال اور انتھک جدوجہد کی کیا ہم اس جدوجہد کا پاس رکھ رہے ہیں؟افسوس ناک امر یہ ہے قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کے پائے کی قیادت اس وطن کو نصیب نہ ہو سکے. پاکستان جو اللہ کی عظیم عطا اور شہداء کے مبارک خون کا فیضان ہے ترقی اور عروج کی اس سمت گامزن نہ ہو سکا جسکا محمد علی جناح نے خواب دیکھا تھا.گزشتہ 73 سالوں سےہم ترقی پزیر سے ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکے. علاوہ ازیں نظریہ اسلام جو اصل نظریہ پاکستان اور وطنِ عزیز کی بنیاد ہے جدید دنیا کے تقاضوں کے نام پر مسلسل نظریاتی اقدار کی نفی کی جارہی.قومیں اپنے نظریاتی تشخص کی بنا پر زندہ رہتی ہیں. نوجوان قوم کا مستقبل ہیں لہذا انہیں چاہیے کہ جس عظیم مقصد کی آبیاری تحریک آزادی کے شہداء کے مبارک خون سے ہوئ اس عظیم مقصد کی سر بلندی کے لیے متحد ہو کر قائدِ اعظم کے مطابق "کام, کام اور صرف کام” کے اصول پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں.اپنے اسلامی اور نظریاتی تشخص کو پہچانیں اور اسے ختم ہونے سے بچائیں. دعا کہ شہداء کے مبارک خون کافیضان پاکستان تاصبح قیامت قائم رہے.آمین.

SMA___23
https://twitter.com/SMA___23?s=09