fbpx

شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

1904 میں ایک انگریز عورت کے ہاتھوں نو آبادیاتی نظام کے تحت آباد کیا جانے والا پاکستان کا پہلا شہر سرگودھا ہے اسکے بعد اسلام آباد اور فیصل آباد بنائے گئے۔
شہر کے درمیان میں ایک مارکیٹ ہے جسے گول چوک مارکیٹ کہا جاتا ہے اسکے اندر ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ ایک تالاب ہوا کرتا تھا جسکے کنارے ایک گھر تھا ۔ ہندو جو اس تالاب کا مالک تھا اسکا نام “گودھا” تھا اور تالاب کو فارسی میں “سر” کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے اس کا نام سرگودھا رکھا گیا۔
اپنے محلے وقوع کے اعتبار سے سرگودھا خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ 5800 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ ڈویژن میں 6 تحصیلیں بھلوال، بھیرہ، کوٹمومن، سرگودھا، سلانوالی، شاہ پور شامل ہیں۔ کل آبادی تقریبا 270000 دو لاکھ ستر ہزار ہے۔
تعلیمی میدان میں سرگودھا کا لٹریسی ریٹ تقریبا 80% ہے جبکہ پورے ملک میں 30%۔ تعلیمی اداروں میں سرفہرست سرگودھا یونیورسٹی ،اس کے علاوہ ائیربیس کالج، میڈیکلُ کالج، لاء کالج، ووکیشنکل کالج، کامرس کالج اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسے پنجاب گروپ آف کالجز، دارارقم گروپ، بیکن ہاوس، سٹی سکول سسٹم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
صحت کی سہولتوں کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اسکے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، پرائیویٹ ہسپتال ، ٹی بی سنٹر ، ٹراما سنٹربھی موجود ہیں۔ شوکت خانم ، آغا خان ہسپتال کے کولیکشن سنٹر بھی کام کررہے ہیں۔
کیونکہ یہ ایک پلانڈ شہر ہے تو اس شہر میں ہر قسم کے کاروبار کے الگ الگ بازار ہیں جیسے سونے کی مارکیٹ، کپڑے کی مارکیٹ۔ تمام بازاروں کے درمیان میں ایک چوک آتا ہے جو ان بازاروں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اگر آپ شہر کے کسی بھی کونے سے داخل ہوں تو آپ پورے شہر کو باآسانی گھوم سکتے ہیں۔

دفاعی لحاظ سے اس شہر کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہاں پر پاکستان ائرفورس کا ہوائی اڈہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس شہر کو شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتاہے۔ اس شہر کی فضائیں ہر وقت ائرفورس کے جنگی طیاروں کی آواز سے گونجتی رہتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ائر فورس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور بہترین کارکردگی پر سرگودھا شہر کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ یہ اعزاز صرف سرگودھا شہر کوہے۔ اسی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ایک منٹ سے کم وقت میں انڈیا کے 5 جہازوں کو مار کر ورلڈ ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اسکے علاوہ سرفراز رفیقی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ پاکستان کے کم عمر ترین نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔
سرگودھا اپنی بہت ساری باتوں سے مشہور ہے جس میں سرفہرست یہاں کا کینو مالٹا ہے جو پورے پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔سرگودھا شہر بجری کی سپلائی سے بھی مشہور ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا کرش سپلائر ہے۔ اس شہر نے پاکستان کی بہت ساری مشہور شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جن میں جنرل حمید گل، احمد خان المعورف ملنگی، فٹح خان بلوچ،مفتی محمد شفیع، خواجہ ضیاءالدین سیالوی،خواجہ قمرالدین سیالوی، ملک فیروز خان نون، ملک خضر حیات ٹوانہ، پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. سید سبطین نقوی اور مولانا نقشبند شامل ہیں۔
اسکے علاوہ کھیل میں محمد حفیظ، اعزاز چیمہ اور نوید لطیف کرکٹ میں سرگودھا کی نمائندگی کر چکے۔ اس شہر کے نامور شعراء میں احمد ندیم قاسمی, وصی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم .سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال. ڈاکٹر عامر علی شامل ہیں۔