شکل سے مسلمان لگتے ہو، بھارتی پولیس کا ہندو وکیل پربہیمانہ تشدد

شکل سے مسلمان لگتے ہو، بھارتی پولیس کا ہندو وکیل پربہیمانہ تشدد

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے تشدد کا سلسلہ عام ہے تا ہم ایک حیران کن واقعہ پیش آیا ہے، پولیس اہلکاروں نے ایک ہندو وکیل کو مسلمان سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے بیتول میں دیپک بندیلے نامی وکیل کو پولیس نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، وکیل نے داڑھی رکھی ہوئی تھی اور شکل سے مسلمانوں جیسا لگتا تھا ،پولیس نے بھی اس بات کا اقرار کر لیا ہے کہ دیپک مسلمانوں جیسا لگتا تھا اسلئے تشدد کیا، تحقیقات کے بعد ایک اے ایس آئی کو معطل کر دیا گیا ہے.

ہندو وکیل دیپک کا کہنا ہے کہ وہسرکاری اسپتال جا رہے تھے۔ ذیابطیس کا مریض ہوں، اس وقت تک لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہوا تھا، تاہم مدھیہ پردیش میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ میں گزشتہ 15 سالوں سے بلڈ پریشر اور ذیابطیس کا مریض ہوں۔ اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اس لیے میں اسپتال جانے کے لئے گھر سے نکلا تھا۔ لیکن راستہ میں مجھے پولیس والوں نے روک لیا۔ میں نے پولیس والوں سے کہا کہ میں اپنی دوائی لینے جا رہا ہوں مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور مجھے تھپڑ رسید کر دیئے۔

دیپک کا کہنا تھا کہ میں نے پولیس والوں سے کہا کہ انہیں آئین کی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے تو میرے خلاف دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کر لیں۔ میں گرفتاری دینے کو تیار ہوں،اتنا سننے کے بعد پولیس والوں نے مجھے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، اور مزید پولیس کو بھی طلب کیا جنہوں نے مجھے ڈنڈوں سے مارا،

دیپک کا کہنا تھا کہجب انہوں نے بتایا کہ وہ ایک وکیل ہیں اور ان کے خلاف شکایت کریں گے، تو پولیس والوں نے انہیں پیٹنا بند کر دیا، لیکن تب تک ان کے کان سے خون بہنے لگا تھا۔

دیپک نے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈی ایس بھدوریا اور ڈی جی پی وویک جوہری کے پاس شکایت درج کرائی۔ دیپک کا کہنا تھا کہ جب سے انہوں نے شکایت درج کی ہے پولیس ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ شکایت واپس لے لیں۔ کچھ اعلی افسران نے کہا کہ آپ اپنی شکایت واپس لے لو۔ وہ بیان جاری کر کے اس واقعہ کی مذمت کر دیں گے اور معافی بھی مانگ لیں گے۔ اس کے بعد مجھے دھمکی دی گئی کہ اگر میں اور میرا بھائی جو وکیل ہے، سکون سے اپنی پریکٹس کرنا چاہتے ہیں تو شکایت واپس لے لیں

کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

ممبئی جیل میں کرونا کا پھیلاؤ، قیدیوں کے لواحقین نے کس سے مانگی مدد؟

بدنامہ زمانہ کلب نے مسلمانوں کے لئے "حلال سیکس” متعارف کروا دیا

لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا "ریپ” کرنے کی منصوبہ بندی

لندن پلٹ جوان نے کئے گھریلو ملازمہ سے جسمانی تعلقات قائم، ملازمہ میں ہوئی کرونا کی تشخیص

کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

دیپک کا کہنا تھا کہ میرے پاس آڈیو موجود ہے جس میں ایک پولیس والا کہہ رہا ہے کہ تمہاری غلطی سے پٹائی ہو گئی۔ پولیس اہلکار کو لگا کہ تم مسلمان ہو کیوں کہ تمہاری داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور وہ پولیس والا کٹر ہندو تھا۔ اب تم بات کو آگے مت بڑھاؤ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.