شام کی مہاجر خوتین سے کرد مرد زبردستی شادیاں کرنے لگے

شام کی مہاجر خواتین سے کرد پارٹی کے لوگ زبردستی شادی رچانے لگے، استحصال کا عمل جاری

تفصیلات کے مطابق ڈیموکریٹک یونین کے ارکان ، شامی پناہ گزین کیمپ خواتین کو نکالنےکے لیے شادی کی شرط لگانے لگے سوشل میڈیا پر شامی اپوزیشن کے فورم اس معلومات سے بھرے پڑے ہیں کہ شام میں ڈیموکریٹک یونین پارٹیPYD (کُردوں کی جماعت) کے ارکان ملک کے مشرق میں اپنے زیر انتظام کیمپوں کے آبادی کو بلیک میل کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے ارکان ان کیمپوں میں مقیم گھرانوں پر دباؤ کے لیے کئی طرح کے ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں تازہ ترین کارستانی ان خواتین کو بلیک میل کرنا ہے جو الحسکہ کے مشرق میں واقع الہول کیمپ سے باہر نکل جانے کی خواہش مند ہیں۔ اس کے واسطے شادی کا ایک فرضی معاہدہ کیا جاتا ہے .. اور فریقین کے درمیان متفقہ معاہدے کے تحت پارٹی کے ارکان مالی رقوم حاصل کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایک میڈیا ویب سائٹ نے الہول کیمپ کی ایک خاتون کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ ایام کے دوران پارٹی کے ارکان کے ساتھ شادیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہاں خواتین کی جانب سے پارٹی کے ارکان کو مجبورا ادا کی جانے والی رقم دس لاکھ شامی لیرہ تک پہنچ گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.