fbpx

شامیوں نے سردی سے بچنے کیلئے میزائلوں کے خول کو ہیٹر میں تبدیل کردیا

بشام: جنگ سے تباہ حال شامیوں نے سردی سے بچنے کیلئے میزائلوں کے خول کو ہیٹر میں تبدیل کردیا ہے۔

باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کے مطابق سائنس فار ڈویلمپنٹ نیٹ ورک میں جاری شامی صوبے ادلیب سے سونیا العلی کی رپورٹ کے حواکے سے بتایا کہ مسلسل جنگ، غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے ہیٹر اور ایندھن عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں تاہم مقامی لوہار 28 سے 32 سینٹی میٹر گھیر کے راکٹ اور میزائلوں کو احتیاط سے خالی کرکے انہیں ہیٹر میں بدل رہے ہیں ان کا بارود مقامی کان کنوں کو پتھر توڑنے اور سرنگ بنانے کے لیے فروخت کردیا جاتا ہے۔ لیکن یہ پورا کام کسی نگرانی کے بغیر جاری ہے اور کسی بڑے حادثے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

صوبہ ادلب میں جسر االشگر نامی شخص نے اپنے گھر میں میزائل ری سائیکل کرکے اسے ہیٹر میں تبدیل کردیا ہے کیونکہ وہ ہیٹرخریدنے کی سکت نہیں رکھتا یہ میزائل اسے گھر کے پاس ملا تھا جسے ایک لوہار سے تبدیل کروایا گیا ہے۔

بھارت میں ہندوانتہاپسندمودی سرکارکی سرپرستی میں قابوسےباہرہوگئے،مسلمانوں کو نماز…

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچے اور بڑے ایسے راکٹوں اور میزائلوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو پھٹنے سے رہ گئے ہوں انہیں کارخانوں میں پہنچایا جاتا ہے پہلے میزائل کا اوپری حصہ کاٹا جاتا ہے تاکہ اس میں سے مضر بخارات باہر نکل جائیں اس کے بعد بہت احتیاط سے اس کا بارود الگ کرلیا جاتا ہے جسے کان کنی کرنے والوں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد میزائل کو ہیٹر کی شکل دی جاتی ہے۔

روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

اس طرح بہت کم خرچ ہیٹر بنائے جارہے ہیں جس کی لاگت 15 ڈالر ہے اور بازار میں عام ہیٹر کی قیمت 100 ڈالر کے قریب ہے اب سیلنڈر نما ہیٹر میں لکڑی، برادہ، کاغذ اور نائیلون وغیرہ بھر کر جلایا جاتا ہے تاہم شامی پائرین کا تیل بھی جلارہے ہیں جو آسانی سے مل جاتا ہے۔

امریکا نے حزب اللہ سے منسلک نیٹ ورک پرنئی پابندیاں عائد کردیں

اسی طرح پناہ گزین اپنے کیمپوں کے ہیٹر میں کوئلہ جلانے پر مجبور ہیں دوسری جانب ماہرین نے اس سارے عمل کو بے حد خطرناک قرار دیا ہے ان کے مطابق میزائل میں بارود کے ذرات بھی بہت نقصان دہ ہوسکتےہیں۔

یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان