شان شاہد اور جواد احمد کے مابین حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے لفظی جنگ

معروف پاکستانی اداکار شان اور نامور گلوکار و سیاستدان جواد احمدکے درمیان سوشل میڈیا پر حکومت اور وزیراعظم عمران خان کی ملک میں کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے کارکردگی کو لے کر لفظی جنگ چھڑ گئی

باغی ٹی وی : معروف پاکستانی اداکار شان اور نامور گلوکار و سیاستدان جواد احمدکے درمیان سوشل میڈیا پر حکومت اور وزیراعظم عمران خان کی ملک میں کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے کارکردگی کو لے کر لفظی جنگ چھڑ گئی جواد احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ملک میں کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور حکومتی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سطحی اورچالاک آدمی ہیں وہ اس وقت بھی سندھ حکومت پر سیاست کررہےہیں


گلوکار و سیاستدان نے کہا کہ انہیں عوام کی جان کےبجائےکوروناٹائیگرزکی پڑی ہے وہ اپنی سیاست بچانےکےلیےعلما ء کوسمجھانےاورروکنےسمیت کوئی بھی سخت فیصلہ نہیں کررہے ان کی چالاکی اپنی جگہ لیکن پاکستان میں جوتباہی ہوگی اس کےذمہ دارعمران خان ہوں گے

جواد احمد کی اس تنقید بھری ٹوئٹ کے جواب میں اداکار شان نے وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں کہا کہ شکر ہے وزیراعظم کرپٹ نہیں ہیں اور جب کرپٹ لوگ اقتدار میں تھے تو آپ کہاں تھے؟


اداکار نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ سیاست کرنا ٹھیک ہے لیکن دوسروں کو نیچے گرانا نہیں ہمارے وزیراعظم اندرونی خطرات سے لڑرہے ہیں ان کا ساتھ دیں یا یہ بتائیں کہ آپ ہماری قوم کے لیے کیا کرسکتے ہیں آپ پاکستان کی ترقی میں کس طرح اچھے مشوروں کے ساتھ ان کی مدد کرسکتے ہیں سیاست یہ نہیں ہے کہ کون بہتر ہے بلکہ سیاست کا مطلب ہے کہ کون ملک کو بہتر بناسکتا ہے


اداکار شان شاہد کی ٹویٹ میں کئے گئے سوالوں کے جواب میں جواد احمد نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے دیتے ہوئے کہا کہ میں عام طور پر ایسی ٹویٹس کا جاب نہیں دیتا ویسے بھی میں شوبز کر لوگوں کی عزت کرتا ہوں آپ نے پوچھا میں اس وقت کہاں تھا جب ملک میں کرپشن ہورہی تھی تو میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ میں وہیں تھا جہاں آپ تھے یعنی میں شوبز میں تھا 2013 میں عمران خان نے مجھے کہاتھا ان کی پارٹی میں شامل ہونے کے لیے لیکن میں نے نہیں جوائن کیا


جواد احمد نے مزید کہا کہ 2018 میں میں نےا پنی برابری پارٹی کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا لہذا میں سیاست کا حصہ ہوں اور اس لیے میں لوگوں پر تنقید کرتا ہوں اور چونکہ عمران خان وزیراعظم میں لہذا ان پر تنقید بنتی بھی ہے جوباقی لوگ تھے وہ جیلوں میں تھے بلکہ جیلوں سے عمران خان نے نکالا ہے ان کو جواد احمد نے تو نہیں نکالا اسلئے عمران خان کے کرپشن کے نعرے پر بھی سوال اٹھتا ہے

ہماری پارٹی مڈل کلاس لوگوں کی نوجوانوں کی بات کرتے ہیں ہم لوگ امیروں سرمایہ داروں جاگیرداروں اور مافیاز کی بات نہیں کرتے
عمران خان کی پارٹی کے اندر سب سے بڑا جن کا رول ہے گلوکار نے کہا ہم غریبوں پر ٹیکس نہیں بلکہ میروں پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان غریبوں پر ٹیکس لگا رہا ہے ہم قرضے امیروں سے پیسے نکلوا کر اتارنا چاہتے ہیں جبکہ عمران خا ن مہنگائی کر کے غریبوں سے کے پیسوں سے قرضے اتارنا چاہتے ہیں

جواد احمد نے کہا کہ ہمیں اگر یقین نہ ہوتا کہ عمران خان غریب لوگوں مڈل کلاس لوگوں اور نوجوانوں کے لئے کچھ نہ کر سکیں گے تو ہم کبھی ان پر یقین نہ کرتے

عروہ حسین کی اوورسیز پاکستانیوں سے وزیراعظم کورونا فنڈ میں عطیات جمع کروانے کی اپیل

مثبت سوچ اور ذہنی سکون آنے والے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے ژالے سرحدی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.