fbpx

شیریں مزاری کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی،مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کا سن کر خوشی نہیں ہوئی۔

سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے لیگی نائب صدر نے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کا سن کر خوشی نہیں ہوئی، سنا ہے ان پر بزدار حکومت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ان پر سرکاری زمین پر قبضے کا الزام ہے۔

مزاری نے محکمہ مال کی 800 کنال اراضی کو بوگس طریقے سے اپنے نام کروایا، اینٹی کرپشن نے اگر گرفتار کیا ہے تو کوئی وجہ ہو گی، اب عورت کارڈ استعمال کررہے ہیں، مجھ پر تو کوئی سنگین الزام نہیں تھا،نوازشریف کی معاونت کا الزام تھا، شیریں مزاری پرسنگین الزامات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے 4 سال لوٹ مار، نالائقی نے پاکستان کا حال کر دیا، مسلم لیگ کی حکومت کو آئے 4 ہفتے ہوئے ہیں۔ شہبازشریف کی کل کی تقریرتازہ ہوا کا جھونکا لگی۔ پچھلے چارسال تو اے سی اتروانے، فلاں کو پکڑ لو باتیں ہوتی تھی، پچھلے 4 سال انتقام، الزامات کے علاوہ کوئی بات نہیں سنی، پاکستان آج معاشی طور پر وینٹی لیٹر پر ہیں۔ چارسال جو کچھ کیا گیا اس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے، وزیراعظم کی شہبازشریف کا ایک اچھے ایڈمنسٹریٹوکا ریکارڈ ہے۔ شہبازشریف نے ایک، ایک ایشوز پر بات کی، مجھے فخر ہوا جس کے قائدین پاکستان بارے اتنا درد رکھتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کل عمران خان نے کہا شہباز شریف 6 بجے اٹھتا ہے تو ان کا مالی بھی 6 بجے اٹھتا ہے، عمران خان جب وزیراعظم تو دوپہر چار بجے اٹھتے تھے، عمران خان نے محنت کش کو طعنہ دیا، شہبازشریف صبح 6 بجے خدمت کرنے کی نیت سے اٹھتا ہے، عمران خان نے کہا تیل کی قیمتیں بڑھانے سے ان کو ڈر لگ رہا ہے،شریف برادران کو عوام کی حالت کا اندازہ ہے اگرقیمتیں بڑھائی توعوام کوتکلیف ہوگی، عمران خان کو ایک مرتبہ عوام کی تکلیف بارے بات کرتے نہیں سنا، عمران حکومت میں تب اورآج بھی کینٹنر پر ہیں۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ بدترین لوڈشیڈنگ کیا ہماری حکومت کی وجہ سے ہو رہی ہے؟ بجلی کے پلانٹس کی مرمت پرکوئی توجہ نہیں دی گئی، آج عوام لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں مبتلا ہے۔