شریف کے کارڈ ختم، بلاول کے عزائم منظر عام پر، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں۔ مثلا ن لیگ ـ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر میدان میں ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ مسئلہ نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد میں کیوں ہے

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا اعتماد ان کے کارکنوں کی بنا پر ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں ان کے چند ہزار طلبہ ان کی طاقت ہیں جس کے بل بوتے پر وہ ریاست کو للکار سکتے ہیں۔ بلیک میل کر سکتے ہیں اور مرضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں ۔مولانا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مجھے اگر کھیل کا حصہ نہ بنایا تو میں آپ کے گلے کی ہڈی بنا رہوں گا مگر مولانا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اگلے انتخابات میں بھی انہیں پارلیمنٹ میں نشست نہ ملی تو سڑکوں پہ رہنے سے انہیں کیا ملے گا ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں موجود پہلی کمزوری یہ ہے کہ اس میں شامل سیاسی جماعتوں کے موقف میں ہم آہنگی کاشدید فقدان ہے جو قائدین کی تقریروں میں بھی واضح نظر آتاہے ۔ نواز شریف اور مریم نوازاپنے کیسز کے خاتمے کی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں تو فضل الرحمن کو محض اسمبلی میں موجود نہ ہونے کا غصہ ہے جبکہ بلاول صرف حکومت کی خراب کارکردگی پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں اور ہمیشہ ایک ایسی تقریر کرتے ہیں جو کسی بھی دور میں کسی بھی حکومت کے خلاف کی جائے تو اس سے کسی کو کوئی فرق نہ پڑے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاپیپلز پارٹی دانستہ طور پر پی ڈی ایم کے جلسوں کو زیادہ طاقتور بنانا نہیں چاہتی ؟ کیا پیپلز پارٹی کھیل کا حصہ رہنا چاہتی ہے ۔ کھیل بگاڑنا نہیں چاہتی۔ کیا وہ نہیں چاہتی کہ سیاست اس نہج پر پہنچ جائے ۔ جہاں وہ کھیل کا حصہ نہ رہے ۔ کیا وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ دوبارہ الیکشن ہوں کیونکہ وہ جانتی ہے جو کچھ آج ان کے پاس ہے انہیں اس سے زیادہ نہیں ملے گا۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس کا ایجنڈا غیر واضح ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں۔ مثلا ن لیگ ـ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر میدان میں ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ مسئلہ نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد میں کیوں ہے ۔حالانکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تو پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے نہ کسی اور صوبے میں ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے ۔ وہ عمران خان کو گھربھی نہیں بھیجنا چاہتے ۔ وہ دوبارہ الیکشن بھی نہیں چاہتے ، پھر وہ چاہتے کیا ہیں ۔ان کا ایجنڈا واضح ہے۔ موجودہ حالات میں وہ صرف اپوزیشن دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ جب اپوزیشن کی باقی جماعتیں احتجاج کر رہی ہوں تو پیپلز پارٹی غیر موجود نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمن البتہ کسی بھی طرح نئے سیٹ اپ کی تلاش میں ہیں جس میں ان کی کوئی گنجائش نکلنے کا امکان موجود رہے۔ چاہے وہ کوئی بھی سیٹ اپ ہو۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں چاہتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.