fbpx

شرجیل میمن کا میڈیکل بورڈ سے عمران خان کا طبی معائنہ کرانے کا مطالبہ

کراچی:وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ سے عمران خان کا طبی معائنہ کرایا جائے، عمران خان کو ہونے والی مخبریوں پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ کون تھا جس نے عمران کو بتایا کہ حملہ ہوگا، کس نے انہیں ارشد شریف کے بارے میں بتایا، اگر کسی کا نام نہیں بتارہے مطلب عمران خان خود کرا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے عمران خان پر حملے پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایک گولی لگی ،کل کہا کہ 4 گولیاں لگی، کون شخص ہے جس کو 4 گولیاں لگیں اور ہاتھ ہلارہا ہے۔ 4گولیاں لگنے والے کو قریبی اسپتال کی بجائے شوکت خانم لےکر گئے، شوکت خانم کینسر کا اسپتال ہے وہاں گولیاں لگنےکا علاج کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ بنا کر گولیاں لگنے کے معاملے کو سامنے لایا جائے کہ کتنی گولیاں لگی ہیں، جس ملک کا وہ نام لے وہاں کے میڈیکل بورڈ کو بلایا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ پوری قوم گواہ ہے کہ لانگ مارچ ناکام ہورہا تھا، کچھ لوگ مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پر جب حملے کی خبر آئی تو سب نے واقعے کی مذمت کی لیکن کچھ لوگ اب بھی مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو سندھ میں جلسے جلوس کرنے ہیں تو صوبائی حکومت انہیں اجازت دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تازہ ترین صورتحال سب کے سامنے ہے، بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ واقعے سے کس کو فائدہ ہورہا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے اداروں کے خلاف جاری مہم کو سوجی سمجھی منصوبہ بندی قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کی لالچ میں وہ شخص اداروں کو بدنام کررہا ہے۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کے ورکرز نے اداروں کو نشانہ بنایا۔ان کا کہنا ہے کہ سب نے ملکی سلامتی کی حفاظت کا حلف لیا ہے لیکن اچھے آفیسرز کو بدنام کیا جارہا ہے۔

عمران خان کا مقصد فساد پھیلانا ہے ، ایسے فسادی شخص کے لیے قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہے۔

صوبائی وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ خود کہہ رہے تھے کہ خونی مارچ ہوگا، انہوں نے احتجاج کو خود پُرتشدد بنایا، جس کی پوری قوم گواہ ہے کہ لانگ مارچ ناکام ہورہا تھا۔انہوں نے معظم نامی شخص کی موت پر اظہارے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طبی امداد کیوں نہیں دی گئی؟

صوبائی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ عمران خان چاہتا ہے سب اس کے مطابق چلیں، وہ ملک کا بادشاہ بننا چاہتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کے لوگ ہر جگہ تعینات کئے جائیں۔عمران خان اب سپریم کورٹ سے انصاف کی بات کررہا ہے، پنجاب میں آپ کی حکومت ہے کارروائی کیوں نہیں کررہے؟

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے تمام مطالبے غیر آئینی و غیر قانونی ہیں۔ وفاقی حکومت شاید عمران خان کے ساتھ نرمی کررہی ہے لیکن یہ شخص نرمی کے لائق نہیں۔عمران خان آج تک لاڈلہ ہے ، احتجاج کی آڑ میں جوکیا جارہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔

صوبائی وزیرِ اطلاعات نے تحقیقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سے جے آئی ٹی بنانے کی اپیل کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات ضروری ہیں کہ معلوم کیا جائے کہ کتنی گولیاں لگیں، اگر تحقیقات نہیں ہوتی تو مطلب عمران خان خود شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اگر میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش نہیں ہوتے تو گرفتار کرکے زبردستی ایگزیمن کیا جائے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عمران کو مزید ایسی حرکتیں کرنے دینا وطن دشمنی کے مترادف ہے۔