fbpx

شوکت ترین مبینہ آڈیو لیک کے معاملے پر ایف آئی اے کے سامنے پیش

شوکت ترین ایف آئی اے سائبر کرائم کی انکوائری میں شامل

تحریک انصاف دور کے وزیر خزانہ شوکت ترین مبینہ آڈیو لیک کے معاملے پر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوگئے۔ شوکت ترین گزشتہ روز خاموشی سے ایف آئی اے آفس آئے اور انکوائری ٹیم کے سوالات کے جواب دیئے۔ شوکت ترین سے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ایاز اور انکوئری افسر منیب احمد نے سوالات کئے۔ شوکت ترین سے ٹیلی فونک کال کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

شوکت ترین ایف آئی اے کے سوالات اپنے ساتھ لے گئے اوروکیل سے مشورہ کرکے ان کے جوابات دیں گے۔ ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر شوکت ترین کو دوبارہ بھی طلب کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت ترین اور تیمورسلیم جھگڑا کی مبینہ آڈیو کال کے معاملے پر ایف آئی اے نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کو بدھ کی صبح 10 بجے اسلام آباد کے زونل آفس میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم شوکت ترین بدھ کی صبح پیش نہیں ہوئے جس کے بعد ان کو جمعرات کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ اگر شوکت ترین پیش نہ ہوئےتو ان کے خلاف دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ چند ہفتے قبل شوکت ترین کی ایک مبینہ آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور خیبرپختونخوا کے وزیر تیمور جھگڑا سے الگ الگ گفتگو کررہے تھے۔ مبینہ آڈیو کال میں شوکت ترین نے دونوں رہنماؤں کو آئی ایم ایف معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں مشورے دیئے تھے۔

مبینہ ٹیلفونک گفتگو میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب روپے کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے، حکومت پردباؤ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف سے کہا جائے کہ آپ سے کمٹمنٹ سیلاب سے پہلے کی تھی، اب ہم سیلاب متاثرین پر پیسے خرچ کررہے ہیں، اس لئے ہماری لئے مشکلات ہوسکتی ہے۔ شوکت ترین نے صوبائی وزیرخزانہ کو زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اب آئی ایم ایف کو لکھنا ہے کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، بس یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔

صوبائی وزیرخزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین سے دریافت بھی کیا کہ کیا اس سے ریاست کومشکل نہیں ہوگی۔ جس پر شوکت ترین نے پارٹی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے چئیرمین سے کس طرح ٹریٹ کررہی ہے، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ ہم پر کیسز کرتے رہیں، بلیک میل کرتے رہیں اور ہم ان کی مدد کرتے رہیں۔
اسلام آباد میں آڈیولیکس پرسابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے 22 کروڑعوام کی بات کی اور کوئی غداری نہیں کی۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی انفرادی فائدے کیلئے کچھ نہیں کہا۔ سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی تو آئی ایم ایف کے کاغذات پھاڑنے کی بات کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام ریورس کردیں گے۔

واضح رہے کہ 31 اگست کو شوکت ترین کی مبینہ آڈیو لیک کے حوالے سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ سابق وفاقی وزیرخزانہ نے صوبائی وزرائے خزانہ سے ملکی مفاد کے خلاف گفتگو کی، ہم نے شوکت ترین، محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، ریاست پاکستان کیخلاف جانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔