fbpx

شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ن لیگی رہنما جاوید لطیف

شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے.

مسلم لیگ ن کے رہنماء میاں جاوید لطیف کا شوکت ترین کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ملک کو دیوالیہ کرنے، سری لنکا بنانے کی پلاننگ آڈیو لیک میں بےنقاب ہو چکی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین میڈیا پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں.

واضح رہے کہ سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2022 تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرادینی تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔ کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے شوکت ترین نے سخت انداز میں آئی ایم ایف پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو اپنا چورن بیچتا رہے گا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔

انھوں نے کہا کہ جنوری 2022 تک ہمارے لئے یہ ہی آئی ایم ایف بہت اچھی رپورٹ دے رہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن موجودہ حکمران بالکل لیٹ گئے ہیں۔ شوکت ترین نے تجویز دی کہ اب حکومت یہ کرے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ ملک میں سیلاب کے باعث ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے شرائط نرم کروائی جائیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس سمیت جہاں سے سستا تیل مل سکتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہئے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین کو غدار کہنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ شوکت ترین پاکستان کیلئے تھائی لینڈ سے ایک ملین ڈالر کی نوکری چھوڑ کر آیا۔ اپنی آڈیو سے متعلق انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اورمیری گفتگو ٹیپ کرنا غیرقانونی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کے ساتھ گفتگو کٹ اینڈ پیسٹ اور ڈاکٹرڈ تھی۔اس لیک ٹیپ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ کارروائی کروں گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیپ خود لیک کرکے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ڈالا اور اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو یہ آڈیو ایسے موقع پر لیک نہ کی جاتی،یہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام پر بہت کچھ بول چکے ہیں تو ہم نے تو انہیں غدار نہیں کہا تھا۔