fbpx

شاعری تحریر: محمد حماد

جب ایک دن میں نے کالم لکھنے کے بارے میں سوچا   کہ چلو آج کچھ طبع آزمائی اس میدان میں بھی  ہو تو ذہن لاشعوری  طور پر اس تحریر کی طرف منتقل ہو ا جو میں نے ایک کتاب سے متاثر ہوکر ” اللہ نورُ السمٰواتِ والارض” کے عنوان سے لکھاجو یونی ورسٹی کے لائبریری کے ایک کتاب "خدا موجود ہے سائنسدانوں کی نظر میں”کے مطالعے کے بعد لکھا۔ لیکن اس تحریر نے مجھے اس مخمصے میں ڈال دیا کہ آج تک میں یہ نہیں جان پایا کہ وہ تحریر تبصرہ تھا ، تجزیہ تھا  یا پھر کالم ۔۔۔؟ لیکن خیر آج شاعری پر لکھنا چاہتا ہوں اور بہت گہرائی میں جانا چاہتا ہو اس یقین کہ ساتھ کہ  میرا  عقل  اس متنوع موضوع  کا متحمل کبھی  بھی نہیں ہوسکتا  کیوں کہ صرف موضوع کے بارے   میں سوچ کر ہی احساسات  میں تغیر پیدا ہونا شروع ہوا  ۔ہوسکتا میرا اس کیفیت کی وجہ شایدمیرا شاعری سے جنون کی حد تک لگاؤ کا ہونا  یا پھر اُردو ادب کی طالب کی حیثیت سے میں  شاعری کے ساتھ ایک  ان جانا  ساتھ اور رشتہ محسوس کرتا ہوں۔ قبل اس کے کہ شاعری اور احساسات کا ذکر طول پکڑ لیں  روئے  سخن شاعری کی طرف ہونا چاہئے اگرچہ  شاعری پر لکھا گیا ہے ، لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جائے گا کیوں کہ یہ وہ لفظی احساس ہے  جو ہر دور کے انسانوں کی جذبات کی ترجمان  رہی  ہے ۔ باوجود اس کے  کہ یہ   کہ زمان ومکاں کے حدود و قیود سے آزاد ہے  یہ معلوم نہیں کہ اس کی ابتدا تاریخِ انسانی میں کب کیسے  اور کیونکر ہوئی؟ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی  ذہن کا خیال ہے  یہ خدائی ودیعت  تخلیقِ انسانی کے ساتھ  دنیائے فانی میں نازل کی گئی۔ تاریخ کے جھرکوں سے آنے والی  مدھم کرنوں کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے    کہ اس کا وجود ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا  اپنے تمام تر عروج  وزوال سمیت۔۔۔۔ عربی زبان کا کیا ہی خوبصورت قول ہے کہ:
        ” الشعرا    ُ تلامیذ الرحمٰن( شعرا رحمان ( اللہ)  کے شاگرد ہوتے ہیں۔)”
اگر بات کی جائے شاعری کی تعریف کی  تو ایک بار پھر      یہ بات غیر واضح رہ جائے گی  لیکن جہاں تک عقل ناقص کی رسائی ہے وہاں یہ بات عیاں ہے  کہ ہر چیز کی تعریف کا احاطہ کرنا ممکن نہیں بعض چیزیں  اپنا تعارف خود ہوتی ہے جو خود کو اس قدر تفصیل سے منظر ِ عام پر لاتی ہے کہ اس کے لیےلغت کے صفحات الٹنے پلٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی   با ایں ہمہ شاعری کی جو مختلف تعریفیں مختلف  زمانوں میں اس کے حسبِ حل کی گئی ہے سب میں یہ امر مشترک قرار پایا ہے  کہ یہ جذبات اور احساسات  اور ما فی الضمیر کے اظہار  کا وہ  بیان ہے جو  قافیہ اور ردیف کے پیرائے  میں کیا جاتا ہے ۔  یہ بات معقول بھی ہے لیکن میرے خیال میں شاعری کا خوب صورت   توضیحی تصور مارک انڈریو نے پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
        ” شاعری غم کی بہن ہے ، ہر وہ انسان جو دکھ سہتا ہے  اور روتا
        ہےشاعر ہے ، ہر آنسوشعر ہے اور دل ایک نظم ہے۔”
      شاید بہت سوں کو اس با ت سے اختلاف ہو  کہ شاعری کی بہتر سے بہترین تعریفیں کی گئی ہیں، تو بھی وہ اپنے دعوے میں حق بجانب ہیں  لیکن وہ کیا ہے کہ ہر انسان کا اپنا  نکتہ نظر ہوتا  ہے جس کی روشنی میں اسے جو مناسب نظر آتا ہے  اسی کو درست خیا ل کرتا ہے لہذا  آپ کے نظر میں کوئی اور جامع تشریحی تعریف بھی ہوسکتی ہے۔
    اگر کبھی آپ کو بھی شاعری پر لکھنے کی جسارت ہوں تو  تو الفاظ کو اس خیال کے ساتھ احاطہ تحریر  میں لانا  کہ آپ شاعری کے بارے میں جو لکھ رہے ہیں  وہ سمندر کے سینے میں موجود سیپ کے بطن  کے اس پانی کی طرح ہے جس میں جمع قطرے کو نکال باہر کرنے سے سمندر کے پانی پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعری پر ہر زبان میں جو ضحیم کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ بھی  اس موضوع کے اصل روح کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
    شاعری صرف ایک فرد کی جذبات کی زیروبم کا نام نہیں  بلکہ اس میں فرد کے ساتھ معاشرہ ، سماج ، روایات ، تاریخ ، فلسفہ ، حالات کے دھارے اور تقاضے ، حدود وقیود کی پابندیاں، زندگی کی نیرنگیاں    اور امید و نا امیدی کے جلتے بجھتے چراغ بہ یک وقت نظر آتے ہیں گویا شاعری تخیل کے بارش کے بعد کا وہ  ست رنگہ دھنک ہے  جس کی ہر رنگ کا اپنا خاص مزہ ہے۔ آخر میں نیئر نسعود کی  دل کو لگنے والی بات یاد آگئی کہ
                ” شاعری دنیا کی مادری زبان ہے”