fbpx

شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں ، تحریری حکمنامہ

وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی

اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ،اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورنے تحریری حکم نامہ میں کہا کہ شہباز شریف آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں ،شہباز کے وکیل کی جانب سے انکی حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق شہباز شریف متعدد اہم امور میں مصروف عمل ہیں،ایف آئی اے نے شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت نہیں کی، عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سلمان شہباز کے اکاوئٹنس منجمد ہونے سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جا سکیں،آئندہ سماعت پر ایف آئی اے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر دلائل دیں

واضح رہے کہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے سپیشل کورٹ میں زیر سماعت ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز خود عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، یہ کیس سابق وزیراعظم کے سابق مشیر شہزاد اکبر کی جانب سے بنایا گیا ہے

نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز، ان کے بیٹے حمزہ شہباز اور دیگر کے خلاف 16 ارب منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ جرائم کورٹ میں جمع کرایا تھا جس میں ایف آئی اے نےمرکزی ملزم نامزد کیاتھا ایف آئی اے کی جانب سےجمع کرائےگئے 7 والیمز کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی۔

تحقیقاتی ادارے نے چالان میں کہا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف 100 گواہ عدالت میں گواہی دیں گے چالان میں کہا گیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جو 2008 سے 2018 تک شہباز شریف فیملی کےچپڑاسیوں/ کلرکوں کےناموں پرلاہور اور چنیوٹ کے مختلف بینکوں میں چلائے گے 28بے نامی اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے، 17 ہزار سےزیادہ کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا ان اکاؤنٹس میں بھاری رقم چھپائی گئی جو شوگر کے کاروبار سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور اس میں وہ رقم شامل ہے جو ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو نذرانہ کی گئی۔