شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب

0
46

نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ مکمل ہو گئی

شہباز شریف ملک کے 23 ویں وزیر اعظم منتخب ہوگئے شہباز شریف کو ایوان میں 174 ووٹ ملے جس کے بعد وہ پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ ایاز صادق کا کہنا تھا کہ شاہ محمودقریشی کےحق میں کوئی ووٹ کاسٹ نہیں ہوا، شہباز شریف نے بلاول بھٹواوردیگررہنماوَں کی نشستوں پرجا کران کا شکریہ ادا کیا ،شہبازشریف نے آصف زرداری ،اسعد محموداوراخترمینگل کا بھی شکریہ ادا کیا شہبازشریف نےقائدایوان کی نشست سنبھال لی ،

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف اپوزیشن اتحاد کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار تھے، آج کامیاب ہو گئے اور وزیراعطم بن گئے، شہبازشریف آج رات 8 بجے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

شہباز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے لاہور کے حلقہ پی پی 122سے بطور رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہو کر کیا 1990ء کے انتخابات میں آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 96 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 124 سے بیک وقت بطور رکن قومی و پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ بعدازاں پنجاب اسمبلی کی سیٹ چھوڑ کر بطور رکن قومی اسمبلی حلف لیا۔ 1993ء میں اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے بطور رکن قومی اسمبلی حلقہ این اے 96 اور رکن پنجاب اسمبلی حلقہ پی پی 125 منتخب ہوئے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ کر بطور رکن پنجاب اسمبلی حلف لیا اور بطور قائد حزب اختلاف کام کیا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن ) کے پلیٹ فارم ایک بار پھر حلقہ این اے 96 اور پی پی 125سے رکن منتخب ہوئے قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ دی اور پہلی بار صوبہ پنجاب کے 13ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا۔ 1999ء میں وفاقی حکومت کی برطرفی کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو ہٹایا گیا تو پنجاب سے انکی حکومت بھی برخاست کر دی گئی۔

بعدازاں دونوں بھائیوں کو خاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا۔ دوران جلاوطنی سعودی عرب میں رہائش کے دوران 2002ء میںمیاں محمد شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا صدر بنا دیا گیا۔ 2006ء میں دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہوئے اور 2007ء میں اپنے بھائی میاں نواز شریف کے ہمراہ پاکستان واپس آگئے۔2008ء کے انتخابات میں مقدمات کیوجہ سے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ مل سکی، بعدازاں2008ء میں ضمنی انتخابات میں بھکر سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 48 سے بلامقابلہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور پنجاب اسمبلی میں 265 ووٹ لیکر بلامقابلہ دوسری بار وزیر اعلی پنجاب منتخب ہوئے۔ فروری 2009ء میں سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قراردیا اور بعدازاں عدالت ہی کے حکم پر بطور وزیراعلی پنجاب بحال ہو گئے۔

2013ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129سے رکن پنجاب اسمبلی جبکہ تین حلقوں پی پی 159، پی پی161 لاہور اور پی پی247 راجن پور سے رکن منتخب ہوئے، باقی سیٹیں چھوڑ کر لاہورکے حلقہ پی پی 159سے حلف لیا اور ایک بار پھر بلامقابلہ 300 ووٹ لیکر تیسری بار وزیراعلی پنجاب منتخب ہو گئے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 132 اور پنجاب اسمبلی کے حلقوں پی پی 164,165سے الیکشن میں حصہ لیا۔ پنجاب اسمبلی کی سیٹیں چھوڑ کر بطور رکن قومی اسمبلی حلف لیا۔ قومی اسمبلی میں عمران خان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار برائے وزیراعظم سامنے آئے۔ 96 ووٹ حاصل کئے اور بعدازاں 111ووٹ لیکر قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے۔ شہباز شریف نے بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی کام کیا ہے۔ عمران خان کے وزارت عظمی سے ہٹائے جانے کے بعد میاں شہباز شریف متحدہ اپوزیشن کے امیدوار برائے وزیراعظم تھے

قبل ازیں تحریک انصاف کی جانب سے استعفوں کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا،ڈپٹی سپیکر اسکے بعد چلے گئے اور ایاز صادق نے قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت سنبھال لی، شہبازشریف اور بلاول بھٹو واپس ایوان میں آ گئے ، قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کی کارروائی شروع ہوئی،ایاز صادق نت طریقہ کار بتا یا، جس کے بعد پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں،ایاز صادق نے شہبازشریف کی بجائے نوازشریف کو وزیراعظم کا امیدوار کہہ دیا

بلاول بھٹو زرداری مہمانوں کی گیلری پہنچ گئے بلاول بھٹو کی مریم نواز اور حمزہ شہباز سے بات چیت ہوئی، مریم نواز اپنے شوہر کے ہمراہ اسمبلی اجلاس میں موجود تھیں،اراکین اسمبلی ایوان میں شہبازشریف کیساتھ تصاویربنواتے رہے

جی ڈی اے کے ارکان فہمیدہ مرزا اور غوث بخش مہر ایوان میں موجودتھے پی ٹی آئی کے منحرف رکن عامر لیاقت ایوان میں آئے عامر لیاقت نے آصف زرداری سے بات کی اور واپس باہر چلے گئے، قومی اسمبلی اجلاس میں کئی اراکین نواز شریف کی تصویریں اٹھا کر لائے تھے،

جی ڈی اے کے ترجمان سردار رحیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر پی ٹی آئی کے ساتھ رہے، اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا جی ڈی اے قیادت آئندہ اجلاس میں صورتحال پر غور کرے گی، جی ڈی اے کا فیصلہ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کا تھا جی ڈی اے نے اپنی کمٹمنٹ پوری کی آئندہ کا لائے عمل کا فیصلہ پیر صاحب پگارا اجلاس میں کریں گے اجلاس جلد بلایا جائے گا ،پیپلز پارٹی رہنماؤں نے جی ڈی اے سے شہباز شریف کیلئے ووٹ مانگ لیا شگفتہ جمانی جی ڈی اے ارکان کی نشست پر پہنچ گئیں ،نوید قمر بھی جی ڈی اے کو منانے پہنچ گئے

شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

عمران خان منتخب وزیراعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں،عدالت

وزیراعظم کا انتخاب، تحریک انصاف کی اراکین کو ہدایات جاری

اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

استعفوں کے بعد اگلا لائحہ عمل، شیخ رشید نے بڑا اعلان کر دیا

پی ٹی آئی کا بھی لانگ مارچ کا اعلان،کب ہو سکتا ہے،تاریخ بھی سامنے آ گئی

قومی اسمبلی کی طرف سے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں،ڈپٹی سپیکر

پی ٹی آئی کا وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ ، اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی

Leave a reply