معاون خصوصی برائے اسٹیبلیشمنٹ شہزاد ارباب مشیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے طریقہ کار پر برہم ہو گئے

معاون خصوصی برائے اسٹیبلیشمنٹ شہزاد ارباب مشیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے طریقہ کار پر برہم ہو گئے

باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان کے نومنتخب معاون خصوصی برائے اسٹیبلیشمنٹ شہزاد ارباب مشیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے طریقہ کار پر برہم ہو گئے۔

اپنے بیان میں نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کو بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس کے عملے نے غیرپیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا جس پر بہت افسوس ہے.انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا کام صرف فیصلہ کرنا ہوتا ہے، درست طریقہ یہ تھا کہ میرا نوٹیفکیشن علیحدہ جاری کیا جاتا۔

شہزاد ارباب نے کہا کہ میں وزیراعظم سے اس معاملے پر بات ضرور کروں گا،مجھے دوبارہ واپس لایا گیا یہ اس وقت ہی کیا جانا تھا،پہلے ہٹا دیا گیا پھر چار دن بعد واپس لانا اچھا طریقہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مجھے کہا ہے کہ بابر اعوان کو پارلیمنٹ میں لانا چاہتا ہوں، انہیں پارلیمنٹ میں لانے کا مقصد حکومت کا دفاع کرنا ہے.
خیال رہے کہ آٹاچینی بحران کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کی تھی اس دوران انہوں نے اپنے مشیر ارباب شہزاد کو بھی عہدے سے ہٹادیا تھا جب کہ بابر اعوان کو مشیر برائے پارلیمانی امور مقرر کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق بابر اعوان کو کابینہ میں لانے کے لیے وزیر اعظم کے مشیر اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعوان معاون خصوصی بننے کو تیار نہیں تھے جب کہ آئین کے رولز آف بزنس کےمطابق وزیراعظم صرف 5 مشیر رکھ سکتے ہیں۔

اب شہزاد ارباب کی تعیناتی کے بعد وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعداد 14 ہوگئی ہے جب کہ مشیران 5 ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.