fbpx

شیخ جراح کے فلسطینی اسرائیلی سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر لیکن عدالت کس ترازو سے تول رہی

شیخ جراح کے فلسطینی اسرائیلی سپریم کورٹ کے رحم و کرم پر لیکن عدالت کس ترازو سے تول رہی

باغی ٹی وی : اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایک اعلی سطحی شیخ جرح کیس کی قانونی کارروائی میں مداخلت نہیں کرے گا جس میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں چار فلسطینی خاندانوں کو اسرائیلی آباد کاری تنظیموں کی طرف سے زبردستی اخراج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں اویچائی مینڈل بلٹ نے کہا کہ اس کے لئے اس کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

عدالت کو بھیجے گئے ایک خط میں مینڈل بلٹ نے لکھا ہے کہ شیخ جرح کے پڑوس کے بارے میں گذشتہ برسوں سے جاری متعدد قانونی طریقہ کار کی روشنی میں اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسے عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل کے فیصلے سے سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرنے کے لئے آزاد رہ جاتا ہے کہ آیا چاروں فلسطینی خاندانون کی دو نچلی عدالتوں کے فیصلوں کی اپیل سننی ہے کہ انہیں اپنے گھر بار چھوڑنا چاہئے۔

یہ چاروں خاندان 500 سے زائد فلسطینیوں کے ایک گروپ کا حصہ ہیں۔ یہ 28 خاندانوں پر مشتمل ہے۔ انہیں شیخ جراح کے پڑوس سے زبردستی ملک بدر کرنا پڑا ہے۔سپریم کورٹ پہلے ہی شیخ جرح اور اسکے قرب و جوار کے علاقوں کو فلسطینیوں سے چھین کر اسرائیلیون کو دینے کافیصلہ سنا چکی ہے . اس بے انصافی پر مبنی عدل پر دنیا پہلے ہی تنقید کر ر ہی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.