fbpx

شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ آپ نے شریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کیوں کہا؟ تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جس طرح تالاب کا ڈو ڈو شور کر تا ہے اُسی طرح شیریں مزاری کی ٹَر ٹَر ٹریکٹر ٹرالی کے شور کا سَماں پیش کرتی ہے۔
اِقتدار کے آخری دنوں میں جب خان کو اپنی ناؤ ڈوبتی نظر آئی تو شیریں مزاری کی لاٹری نکل آئی۔
خان نے مخالفین پر حملوں کیلئے شیریں مزاری کا انتخاب کیا۔ جس کی اپنی بیٹی ایمان مزاری بھی اُس کے کنٹرول میں نہیں۔
اپنے مذہبی پسِ منظر کی وجہ سے شیریں مزاری مغرب اور بالخصوص امریکہ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے رکھی ہیں۔
شیریں مہر النساء مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی ایک الگ داستان ہے۔
نیب ملتان شیریں مزاری کے خلاف زمین کی جعلی کمپنیوں کو دینے کے خلاف انکوائری کر رہا ہے۔
راجن پور میں شیریں مزاری نے129ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔
وِراثتی جائیداد میں بھی غلط حصے کیلئے شیریں مختلف اِداروں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
راجن پُور میں ہی شیریں مزاری نے 35138 کنال زمین کے الاٹیز پر زمین کی الاٹمنٹ سے دَست بردار ہونے کیلئے جھُوٹی FIRsکاٹی گئیں۔حتیٰ کہ الاٹیز سے بھتہ بھی وَصول کیا جاتا رہا۔
اِس رویے کے خلاف شیر محمد، میر محمد، حبیب اللہ وغیرہ نے مزاری خاندان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائرکر رکھا ہے۔
الاٹیز 1997سے انصاف کے حصول کیلئے دَر بدر پھر رہے ہیں۔
شیریں مزاری اپنے بھائی جو کہ مُشرف دُور میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے، سے مل کر مخالفین کو پولیس اور دیگر اداروں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

پاکستان بھر میں تنقید در تنقید کا ایک نہ رکنے والے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ سیاسی وابستگی ایک طرف مگر عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا ہر شے پر بے جا تنقید اور سازش کے بیانیے کو یوں فروغ دینے میں مصروف ہیں کہ عوام میں غیر ضروری بے قراری ابھاری جا سکے۔ دراصل یہی وہ منطق ہے جس کے مسلسل پرچار سے خان اور اس کے ساتھی عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو حکومت اور اداروں کے خلاف کھڑا کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے ذاتی ایجنڈے کی پیروی چاہتے ہیں ۔ اس عمل میں کچھ میڈیا کے عناصر کو بھی اپنے گھناؤنے عزائم میں شامل کررکھا ہے ۔ عمران خان، فواد چوہدری، شیریں مزاری اور شہباز گل تو گویا ایسے چشمے سے پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہیں کہ جیسے آج کے سیاسی و اقتصادی حالات کے لیے سابقہ چار سالوں سے پی ٹی آئی نہیں بلکہ یا تو موجودہ حکومت، ادارے یا امریکا ذمہ دار ہیں۔

اپنے سازشی بیانیے کی پیروی ایک طرف پھر اپنے ہی بیانات میں افواج پاکستان کو ذاتی سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش کے اعتراف سے اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ تمام حکومتی سرگرمیوں کے ناقد ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی صورت بھی موجودہ حکومت انہی کی خراب کردہ معیشت کو ایک بہتر ڈگر پر چلا سکے۔ ایک طرف تو یہ نسرین جلیل کے بطور گورنر سندھ تعیناتی کی تجویز پر تنقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اس بات سے لاعلم ہیں کہ شیریں مزاری کا یونائیٹڈ نیشنز کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی دعوت دینا انہی کے بیرونی سازش کے بیانیے کی نفی کرتا ہے۔

کیا یہ یونائیٹڈ نیشنز میں امریکی اثر و رسوخ سے انجان ہیں؟ کیا یہ اس بات سے لاتعلق ہیں کہ جس توہین رسالت کے قانون کا یہ دفاع کرتے آئے ہیں، شیریں مزاری کے خط سے اسی کی تنقید کا سامان کر رہے ہیں؟ یو ٹرن ماسٹر تو یہ شروع سے ہی رہے ہیں مگر کیا آج اقتدار کی بھوک نے ان کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ یہ ایک جھوٹا اعلامیہ جاری کر کے خود ہی اس کی انجانے میں نفی بھی کرتے ہیں اوراس احساس سے عاری بھی ہیں۔ کیا یہ خود داری کی بات کرنے والے منافقت تو نہیں کر رہے اور پاکستان اور اس کی عوام کو اپنے اقتدار کی ہوس سے نیچا سمجھتے ہیں کہ ان کا استعمال کر رہے ہیں؟ آج یہ نسرین جلیل کو بھارت کو خط لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو کوئی عہدہ نہیں دیا جانا چاہئیے تو شیریں مزاری کا خط بھی ایسی ہی کارگزاری ہے۔ کیا یہ اپنے گریبان میں جھانکیں گے؟ اگر وہ غلط ہے تو پھر یہ بھی غلط ہے ۔ اور شیریں مزاری کو بھی مستقبل میں کسی بھی عہدے کے لیے ناموزوں سمجھا جائے ۔