fbpx

شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیو یارک سٹی 2022 میں شرکت کے لئے امریکہ روانہ

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیو یارک سٹی 2022 اور اقوم متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ روانہ ہو گئی ہیں۔

شیری رحمان کلائمیٹ ویک نیویارک سٹی CWNYC 2022 میں پاکستان کی نمائندگی کرے گی، شیری رحمان کلائمیٹ ویک میں پاکستان کو درپیش ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرے گی، شیری رحمان مختلف ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ پری کاپ 27 ملاقاتیں بھی کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی صرف ایک سمت کی پیروی نہیں کرتی. وزیر اعظم

وفاقی وزیر شیری رحمان وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستان کے وفد کے ہمراہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کرے گی، جبکہ یو این جی اے اجلاس میں شرکت ساتھ مختلف ممالک کے وزراء، نمائندگان، اور عالمی اداروں کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گی۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات پر خصوصی بند کمرہ اجلاس کرے گی۔

موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ

گلوبل وارمنگ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور مشترکہ مسئلہ بنا ہوا ہے جدید دور کے انسان نے جب سے ترقی کے راستے پر چلنا شروع کیا ہے تب سے اسکا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے ، صعنتوں میں ترقی ہوئی ہے،ٹیکنالوجی نے زندگی آسان کردی ہے، سفر آرام دہ ہو چکے ہیں ، غرض ہر چیز میں بہتری دیکھنے کو ملی مگر اس ترقی کی دوڑ میں انسان نے اپنی زمین، ماحول اور آب و ہوا کو نظر انداز کردیا جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ جیسےخطرناک چیلنج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جسے زمینی درجہ حرارت بڑھنا بھی کہتے ہیں جس کے اثرات نہ صرف حیوانات اور زراعت کے لئے خطرناک ہیں بلکہ انسا نی آبادی کے لئے بھی خوفناک ہیں۔

موسمیا تی تبدیلی آج کی دنیا کا سب سے خوفنا ک مسئلہ ہے انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے وہ جلد از جلد اس کو حل کریں سا ئنسدان موسمیاتی تبدیلی کو کرہ ارض کا ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہیں انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائی میٹ چینج کے مطابق گزشتہ 160سالوں سے کرہ ارض کی آب و ہوا میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں جن میں سب سے نمایاں گلوبل وارمنگ یعنی زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہے ایک اندازے کے مطابق نصف انیسوی صدی سے اکیسوی صدی تک کا عرصہ انتہائی گرم تھا اور 2005گرم ترین سال تھا جس کے نتیجے میں گلیشئرپگھل رہے ہیں ،مختلف جانوروں کی نسلیں تباہ ہو رہی ہیں ،سطح سمندر بلند ہو رہی ہے جولہروں میں طوفان اور سونامی کا با عث بنتی ہے اوریہ سطح آئندہ سو سالوں میں مزید 2فٹ بلند ہوجائے گی یہ موسمیاتی تبدیلی انسانی سرگرمیوں کا باعث ہے جیسے صعنتی انقلاب ، جنگلات کا کٹاؤ،نامیاتی ایندھن کا استعمال ، آبادی میں اضافہ یہ تمام عوامل فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کے اخراج کا سبب بنتے ہیں مزیدکچھ گیسس مثلاًاوزون ،سلفر ہیگزافلورائڈ،ہائڈروفلوروکاربنز،پرفلوروکاربنز اور کلورو فلورو کاربنز شامل ہیں یہ تمام گرین ہاؤس گیسس کہلاتے ہیں جوسورج کی روشنی سے کیمیائی تعامل کر کے حرارتی توانائی پیدا کرتے ہیں اس عمل کو گرین ہاؤس ایفیکٹ کہتے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور گلوبل وارمنگ ہوتی ہے۔