fbpx

شعیب اختر سے بدتمیزی، پی ٹی وی کے اینکر نعمان نیازکی چُھٹی ہوگئی

اسلام آباد: شعیب اختر سے بدتمیزی، پی ٹی وی کے اینکر نعمان نیازکی چُھٹی ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق پی ٹی وی کی انکوائری کمیٹی نے سرکاری ٹی وی پر شعیب اختر کو شو چھوڑ کر جانے کا کہنے والے اینکر پرسن ڈاکٹر نعمان نیاز کو فوری طور پر آف ائیر کرنے کی سفارش کی تھی جس کے بعد انہیں آف ائیر کردیا گیا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سرکاری ٹی وی پر کرکٹ لیجنڈ شعیب اختر کے ساتھ پیش آئے واقعے کے معاملے پر سرکاری ٹی وی کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی وژن (ایم ڈی پی ٹی وی) اور دیگر حکام نے شرکت کی، اجلاس میں شعیب اختر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پروگرام کی آن ائیر اور آف ائیر تمام ریکارڈنگ دیکھی گئی، انکوائری کمیٹی نے ڈاکٹر نعمان نیاز سے بھی پوچھ گچھ کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے فوری طور پر اینکر پرسن ڈاکٹر نعمان نیاز کو آف ایئر کرنے کی سفارش کی جبکہ انکوائری کمیٹی نے شعیب اختر کو بھی بیان کے لیے بلا لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم ڈی پی ٹی وی نے اجلاس کے دوران ڈاکٹر نعمان نیاز کو اسپورٹس پروگرام میں متبادل اینکر لانے کی ہدایت کی لیکن ڈاکٹر نعمان نیاز نے اپنی جگہ متبادل اینکر پرسن لانے سے معذرت کرلی اور کہا کہ پروگرام خود نہ کرسکا تو کسی کو بھی نہیں کرنے دوں گا۔

سے بدتمیزی، میزبان ڈاکٹر نعمان کا بیان بھی سامنے آ گیا

خیال رہے کہ 26 اکتوبر کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کے بعد سرکاری ٹی وی پر لائیو شو کے دوران پروگرام کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز نے ویون رچرڈز اور ڈیوڈ گاور سمیت دیگر مہمانوں کے سامنے شعیب اختر سے شو چھوڑ کر جانے کا کہا تھا۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی پر اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے حارث رؤف کی تعریف کی اور اس کا کریڈیٹ لاہور قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کو دیا۔

سرکاری ٹی وی کے میزبان کو قلندرز کی تعریف شاید پسند نہ آئی اور جواب میں وہ شعیب اختر سے ہی نا شائستہ رویہ اپنا بیٹھے اور انہیں شو سے اٹھ جانے کو کہہ دیا۔

شعیب اختر نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی لیکن جب بات نہ بنی تو شعیب اختر ناصرف شو چھوڑ کر چلے گئے بلکہ انہوں نے پی ٹی وی سے بھی استعفیٰ دیدیا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!