fbpx

اسلام آباد ہائیکورٹ کا شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ،ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ و دیگر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

ایف آئی اے کی جانب سے شعیب شیخ سمیت دیگر کی سزا معطلی واپس لینے کی استدعا کی گئی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دو سماعتوں پر نہیں آتے پھر وارنٹ نکلتے ہیں تو آتے ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرمنل معاملہ ہے ،چار پانچ سال سے اپیل چل رہی ہے اور یہ چھپن چھپائی کر رہے ہیں ، ضمانت واپس لے لیتے ہیں ان کو جیل بھیج دیتے ہیں پھر 2031 کے لیے کیس مقرر کر دیتے ہیں ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر آرڈر ہوا تھا کہ شعیب شیخ حاضر ہو ،شعیب شیخ کو عدالت حاضری سے استثنیٰ دے ،

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے پراسیکیوٹرسے سوال کیا کہ چار سال سے یہ اپیلیں کیوں زیر التوا ہیں ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ پانچ جولائی 2018 کو سزا ہوئی تو یہ کورٹ سے بھاگ گئے ،ان کی ضمانت خارج ہوئی تو کورٹ سے بھاگ گئے ، عدالت نے شعیب شیخ کے وکیل کو ہدایت کی کہ فیصلہ کر لیں کہ کس نے بحث کرنی ہے مریم نواز کیس میں بھی لکھا ہے کہ کیسز زیر التوا ہونا سسٹم پر دھبہ ہے ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بار بار بات کرنے کی کوشش پر عدالت نے اظہار برہمی کیا

شعیب شیخ کی مستقل استثنیٰ کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دئیے گئے ، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ،ایگز یکٹ ا سكینڈل 2018 سے زیر التوا تھا ،شعیب شیخ نے کیس سے بچنے کیلئے کثیر رقم خرچ کی شعیب شیخ نے بارہا مشکوک میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرائیں اور سماعت میں التوا لیا

واضح رہے کہ ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد چودھری ممتاز حسین نے شعیب شیخ اور دیگر کو 5 جولائی کو سزا سنائی تھی،اسلام ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ میں شعیب شیخ کے خلاف فیصلے کو 2018 کو معطل کیا تھا،ماتحت عدالت نے شعیب شیخ سمیت 23 ملزمان کو مجموعی طور پر 20,20 سال قید اور 13,13 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں،

خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے قانون سازی، خواجہ سرا کمیونٹی نے اجلاس بلا کر اہم فیصلے کر لئے

خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

شعیب شیخ اور دیگر ملزمان پر دفعہ 471 کے تحت 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ دفعہ 468 کے تحت 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جب کہ دفعہ 420 کے تحت 3 سال قید و 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گی ہے اور ملزمان پر دفعہ 419 کے تحت 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا.عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ تمام سزاؤں کا اطلاق ایک ساتھ ہو گا جب کہ ملزمان کو منی لانڈرنگ اور الیکٹرانک کرائم کے الزامات سے بری قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 2015 میں ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف کیا تھا جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔